بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سفر میں صبح سویرے نکلنے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جہاد کے مسائل باب: سفر میں صبح سویرے نکلنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2606 سنن ابو داؤد
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، هُشَيْمٌ ، يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عُمَارَةُ بْنُ حَدِيدٍ ، صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ حَدِيدٍ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا"، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ صَخْرُ بْنُ وَدَاعَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
صخر غامدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «اللهم بارك لأمتي في بكورها» اے اللہ! میری امت کے لیے دن کے ابتدائی حصہ میں برکت دے اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی سریہ یا لشکر بھیجتے، تو دن کے ابتدائی حصہ میں بھیجتے۔ (عمارہ کہتے ہیں) صخر ایک تاجر آدمی تھے، وہ اپنی تجارت صبح سویرے شروع کرتے تھے تو وہ مالدار ہو گئے اور ان کا مال بہت ہو گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صخر سے مراد صخر بن وداعہ ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/البیوع 6 (1212)، سنن ابن ماجہ/ التجارات 41 (2236)، (تحفة الأشراف: 4852)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/416، 417، 432، 4/384،390، 391)، دی/ السیر 1(2479) (صحیح)» ‏‏‏‏ (حدیث کا پہلا ٹکڑا «اللهم بارك لأمتي في بكورها» شواہد کی وجہ سے صحیح ہے اور سند میں عمارہ بن حدید کی توثیق ابن حبان نے کی ہے جو مجاہیل کی توثیق کرتے ہیں، اور ابن حجر نے مجہول کہا ہے حدیث کے دوسرے ٹکڑے کو البانی صاحب نے ’’الضعیفہ (4178)“ میں شاہد نہ ملنے کی وجہ سے ضعیف کہا ہے جب کہ سنن ابی داود میں پوری حدیث کو صحیح کہا ہے لیکن سنن ابن ماجہ میں تفصیل بیان کردی ہے، نیز اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (3908)
أخرجه الترمذي (1212 وسنده حسن) وابن ماجه (2236 وسنده حسن) عمارة بن حديد حسن الحديث علي الراجح وثقه العجلي وابن خزيمة وغيرھما
الحكم: صحيح