بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: تیر لے کر مسجد میں جانے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جہاد کے مسائل باب: تیر لے کر مسجد میں جانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2586 سنن ابو داؤد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، اللَّيْثُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: أَمَرَ رَجُلًا كَانَ يَتَصَدَّقُ بِالنَّبْلِ فِي الْمَسْجِدِ" أَنْ لَا يَمُرَّ بِهَا إِلَّا وَهُوَ آخِذٌ بِنُصُولِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا جو مسجد میں تیر بانٹ رہا تھا کہ جب وہ ان تیروں کو لے کر نکلے تو ان کی پیکان پکڑے ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2586]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/البر 34 (2614)، (تحفة الأشراف: 2919)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 66 (451)، والفتن 7 (7073)، سنن النسائی/المساجد 26 (717)، سنن ابن ماجہ/الأدب 51 (3777)، مسند احمد (3/308، 350) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2614)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2587 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، بُرَيْدٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا أَوْ فِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا أَوْ قَالَ: فَلْيَقْبِضْ كَفَّهُ أَوْ قَالَ: فَلْيَقْبِضْ بِكَفِّهِ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص ہماری مسجد یا ہمارے بازار سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہو تو اس کی نوک کو پکڑ لے یا فرمایا: مٹھی میں دبائے رہے، یا یوں کہا کہ: اسے اپنی مٹھی سے دبائے رہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں میں سے کسی کو لگ جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 67 (452)، والفتن 6 (7075)، صحیح مسلم/البر (2615)، سنن ابن ماجہ/الأدب 51 (3778)، (تحفة الأشراف: 9039)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/391، 392، 397، 410، 413) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (7075) صحيح مسلم (2515)
الحكم: صحيح