بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: گھوڑوں کے پسندیدہ رنگوں کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: جہاد کے مسائل باب: گھوڑوں کے پسندیدہ رنگوں کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2543 سنن ابو داؤد
هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالْقَانِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الأَنْصَارِيُّ ، عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ ، أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِكُلِّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو وہب جشمی سے روایت ہے اور انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحبت حاصل تھی، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اوپر ہر چتکبرے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا کالے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے گھوڑے کو لازم پکڑو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2543]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الخیل 2 (3595)، و یأتي برقم (2553)، (تحفة الأشراف: 15519)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/345) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس میں عقیل مجہول راوی ہیں صرف ابن حبان نے توثیق کی ہے اور حدیث کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے، لیکن جابر کی حدیث سے جو مسند احمد (3؍352) میں ہے یہ حدیث حسن کے درجہ میں ہے) ملاحظہ ہو:صحیح ابی داود (7؍306)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3595)
عقيل بن شبيب مجهول (تق : 4660)
ولبعض الحديث شاهد حسن عند الترمذي (1696،1697) و ابن ماجه (2789)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 93
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 2544 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ ، أَبُو الْمُغِيرَةِ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ ، عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ ، أَبِي وَهْبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِكُلِّ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ كُمَيْتٍ أَغَرَّ"، فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ سَأَلْتُهُ: لِمَ فُضِّلَ الْأَشْقَرُ؟ قَالَ: لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ جَاءَ بِالْفَتْحِ صَاحِبُ أَشْقَرَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اوپر ہر سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا ہر چتکبرے سفید پیشانی کے گھوڑے لازم پکڑو ۱؎، پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا۔ محمد یعنی ابن مہاجر کہتے ہیں: میں نے عقیل سے پوچھا: سرخ رنگ کے گھوڑے کی فضیلت کیوں ہے؟ انہوں نے کہا: اس وجہ سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک سریہ بھیجا تو سب سے پہلے جو شخص فتح کی بشارت لے کر آیا وہ سرخ گھوڑے پر سوار تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 15519) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: «أشقر» سرخ گھوڑے کو کہتے ہیں، اور اس کی دم بھی سرخ ہوتی ہے، اور «كميت» کی دم اور بال سیاہ ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2543)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 93
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 2545 سنن ابو داؤد
يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شَيْبَانَ ، عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُمْنُ الْخَيْلِ فِي شُقْرِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے کی برکت سرخ رنگ کے گھوڑے میں ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الجھاد 20 (1695)، (تحفة الأشراف: 6290)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/272) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی ان میں توالد و تناسل زیادہ ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3879)
الحكم: حسن