أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ الذِّمَارِيُّ ، عَمِّي نِمْرَانُ بْنُ عُتْبَةَ الذِّمَارِيُّ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبَا الدَّرْدَاءَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ الذِّمَارِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي نِمْرَانُ بْنُ عُتْبَةَ الذِّمَارِيُّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ، وَنَحْنُ أَيْتَامٌ فَقَالَتْ: أَبْشِرُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُشَفَّعُ الشَّهِيدُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: صَوَابُهُ رَبَاحُ بْنُ الْوَلِيدِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نمران بن عتبہ ذماری کہتے ہیں: ہم ام الدرداء رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ہم یتیم تھے، انہوں نے کہا: خوش ہو جاؤ کیونکہ میں نے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”شہید کی شفاعت اس کے کنبے کے ستر افراد کے لیے قبول کی جائے گی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: (ولید بن رباح کے بجائے) صحیح رباح بن ولید ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10999) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
وله شاھد عند الترمذي (1663) وابن ماجه (2799 وسنده حسن)
الحكم: صحيح