عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ الْحَنَفِيِّ ، نَجْدَةُ بْنُ نُفَيْعٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ الْحَنَفِيِّ، حَدَّثَنِي نَجْدَةُ بْنُ نُفَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِلا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا سورة التوبة آية 39، قَالَ: فَأُمْسِكَ عَنْهُمُ الْمَطَرُ وَكَانَ عَذَابَهُمْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نجدہ بن نفیع کہتے ہیں کہ میں نے آیت کریمہ «إلا تنفروا يعذبكم عذابا أليما» ”اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا“ (سورۃ التوبہ: ۳۹) کے سلسلہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: عذاب یہی تھا کہ بارش ان سے روک لی گئی (اور وہ مبتلائے قحط ہو گئے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2506]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6523) (ضعیف)» (اس کے راوی نجدة مجہول ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
نجدة بن نفيع مجهول (تق : 7099)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 92
الحكم: ضعيف