سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَبُو هَانِئٍ ، عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ ، فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ الْمَيِّتِ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الْمُرَابِطَ فَإِنَّهُ يَنْمُو لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيُؤَمَّنُ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر میت کا عمل مرنے کے بعد ختم کر دیا جاتا ہے، سوائے سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کرنے والے کے، اس کا عمل اس کے لیے قیامت تک بڑھتا رہے گا اور قبر کے فتنہ سے وہ مامون کر دیا جائے گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2500]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/فضائل الجھاد 2 (1621)، (تحفة الأشراف: 11032)، وقد أخرجہ: (حم 6/20، 22) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3823)
أخرجه الترمذي (1621 وسنده حسن)
الحكم: صحيح