بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اعتکاف کرنے والا مریض کی عیادت کر سکتا ہے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: اعتکاف کرنے والا مریض کی عیادت کر سکتا ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 2472 سنن ابو داؤد
عبد الله بن محمد النفيلي ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عبد الله بن محمد النفيلي، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ النُّفَيْلِيُّ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمُرُّ بِالْمَرِيضِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَيَمُرُّ كَمَا هُوَ وَلَا يُعَرِّجُ يَسْأَلُ عَنْهُ"، وَقَالَ ابْنُ عِيسَى: قَالَتْ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حالت اعتکاف میں مریض کے پاس سے عیادت کرتے ہوئے گزر جاتے جس طرح کے ہوتے اور ٹھہرتے نہیں بغیر ٹھہرتے اس کا حال پوچھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17515) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ليث بن أبي سليم ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 91
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 2473 سنن ابو داؤد
وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، خَالِدٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرَهَا وَلَا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: غَيْرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، لَا يَقُولُ فِيهِ: قَالَتْ: السُّنَّةُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: جَعَلَهُ قَوْلَ عَائِشَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سنت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا کسی مریض کی عیادت نہ کرے، نہ جنازے میں شریک ہو، نہ عورت کو چھوئے، اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے، اور نہ کسی ضرورت سے نکلے سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، اور بغیر روزے کے اعتکاف نہیں، اور جامع مسجد کے سوا کہیں اور اعتکاف نہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن کے علاوہ دوسروں کی روایت میں «قالت السنة» کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں نے اسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قرار دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7354) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الزھري صرح بالسماع عند الطبراني في مسند الشاميين (2910)
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 2474 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبُو دَاوُدَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُدَيْلٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُدَيْلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَعَلَ عَلَيْهِ أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَيْلَةً أَوْ يَوْمًا عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اعْتَكِفْ وَصُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں اپنے اوپر کعبہ کے پاس ایک دن اور ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: اعتکاف کرو اور روزہ رکھو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7354)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاعتکاف 16 (2043)، صحیح مسلم/الأیمان والنذور 7 (1656)، سنن الترمذی/الأیمان والنذور 11 (1539)، سنن النسائی/الکبری/ الاعتکاف (3355)، كلهم رووا هذا الحديث بلفظ: ’’أوف بنذرك‘‘۔ (صحیح) دون قوله: ’’أو يومًا‘‘ وقوله: ’’وصم‘‘ (سب کے یہاں صرف ’’اپنی نذر پوری کر“ کا لفظ ہے اوربس)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح دون قوله أو يوما وقوله وصم ق
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قال أبو بكر النيسا بوري : ’’ ھذا حديث منكروابن بديل ضعيف الحديث‘‘ (سنن الدارقطني 200/2،201)
والحديث الصحيح ليس فيه ’’وصم ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 91
الحكم: صحيح دون قوله أو يوما وقوله وصم ق
حدیث نمبر: 2475 سنن ابو داؤد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ الْقُرَشِيُّ ، عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْعَنْقَزِيَّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُدَيْلٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْعَنْقَزِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُدَيْلٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ مُعْتَكِفٌ إِذْ كَبَّرَ النَّاسُ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ؟ قَالَ: سَبْيُ هَوَازِنَ، أَعْتَقَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَتِلْكَ الْجَارِيَةُ فَأَرْسَلَهَا مَعَهُمْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی عبداللہ بن بدیل سے اسی طرح مروی ہے، اس میں ہے اسی دوران کہ وہ (عمر رضی اللہ عنہ) حالت اعتکاف میں تھے لوگوں نے الله أكبر کہا، تو پوچھا: عبداللہ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ قبیلہ ہوازن والوں کے قیدیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آزاد کر دیا ہے، کہا: یہ لونڈی بھی (تو انہیں میں سے ہے) ۱؎ چنانچہ انہوں نے اسے بھی ان کے ساتھ آزاد کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 7354) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: مطلب یہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ سے جب یہ سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہوازن کے قیدیوں کو آزاد کر دیا ہے تو اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ یہ لونڈی جو میرے پاس ہے وہ بھی تو انہیں قیدیوں میں سے ہے پھر تم اسے کیسے روکے ہوئے ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2474)
وقصة عتق سبي ھوازن صحيحة،انظر صحيح البخاري (4318،4319)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 91
الحكم: صحيح