عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ مُعْتَكَفَهُ. قَالَتْ: وَإِنَّهُ أَرَادَ مَرَّةً أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، قَالَتْ: فَأَمَرَ بِبِنَائِهِ فَضُرِبَ. فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ أَمَرْتُ بِبِنَائِي فَضُرِبَ، قَالَتْ: وَأَمَرَ غَيْرِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَائِهِ فَضُرِبَ. فَلَمَّا صَلَّى الْفَجْرَ نَظَرَ إِلَى الْأَبْنِيَةِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ آلْبِرَّ تُرِدْنَ؟ قَالَتْ: فَأَمَرَ بِبِنَائِهِ فَقُوِّضَ، وَأَمَرَ أَزْوَاجُهُ بِأَبْنِيَتِهِنَّ فَقُوِّضَتْ، ثُمَّ أَخَّرَ الِاعْتِكَافَ إِلَى الْعَشْرِ الْأُوَلِ يَعْنِي مِنْ شَوَّالٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، نَحْوَهُ. وَرَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: اعْتَكَفَ عِشْرِينَ مِنْ شَوَّالٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اعتکاف کرنے کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، تو خیمہ لگانے کا حکم دیا، خیمہ لگا دیا گیا، جب میں نے اسے دیکھا تو اپنے لیے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا، اسے بھی لگایا گیا، نیز میرے علاوہ دیگر ازواج مطہرات نے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا تو لگایا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فجر پڑھی تو ان خیموں پر آپ کی نگاہ پڑی آپ نے پوچھا: یہ کیا ہیں؟ کیا تمہارا مقصد اس سے نیکی کا ہے؟ ۱؎، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے نیز اپنی ازواج کے خیموں کے توڑ دینے کا حکم فرمایا، اور اعتکاف شوال کے پہلے عشرہ تک کے لیے مؤخر کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن اسحاق اور اوزاعی نے یحییٰ بن سعید سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اسے مالک نے بھی یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے آپ نے شوال کی بیس تاریخ کو اعتکاف کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الاعتکاف 6 (2033)، 7 (2034)، 14 (2041)، 18 (2045)، صحیح مسلم/الاعتکاف 2 (1172)، سنن الترمذی/الصوم 71 (791)، سنن النسائی/المساجد 18 (710)، سنن ابن ماجہ/الصوم 59 (1771)، (تحفة الأشراف: 17930)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاعتکاف 4 (7)، مسند احمد (6/84، 226) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: استفہام انکاری ہے یعنی اس کام سے تم سب کے پیش نظر نیکی نہیں ہے، غیرت کی وجہ سے یہ کام کر رہی ہو۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2033) صحيح مسلم (1173)
مشكوة المصابيح (2104)
الحكم: صحيح