بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عشرہ ذی الحجہ کے روزہ کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: عشرہ ذی الحجہ کے روزہ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2437 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْحُرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ ، هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ ، امْرَأَتِهِ ، بَعْضِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْحُرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ امْرَأَتِهِ، عَن بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَالْخَمِيسَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ہنیدہ بن خالد کی بیوی سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کسی بیوی سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ذی الحجہ کے (شروع) کے نو دنوں کا روزہ رکھتے، اور یوم عاشورہ (دسویں محرم) کا روزہ رکھتے نیز ہر ماہ تین دن یعنی مہینے کے پہلے پیر (سوموار، دوشنبہ) اور جمعرات کا روزہ رکھتے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الصیام 41 (2371)، 51 (2419)، (تحفة الأشراف: 18297)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/271)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (2452) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ابوداود کی اس روایت میں اسی طرح واحد کے لفظ کے ساتھ ہے مگر نسائی کی روایت (رقم ۲۳۷۴) میں تثنیہ «الخميسين» کے لفظ کے ساتھ ہے، اور سیاق و سباق سے یہی متبادر ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر تین دن کی تفصیل نہیں ہو پاتی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
وأخرجه النسائي (2374 وسنده صحيح) ھنيدة: صحابي، وامرأته: صحابية
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2438 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ يَعْنِي أَيَّامَ الْعَشْرِ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان دنوں یعنی عشرہ ذی الحجہ کا نیک عمل اللہ تعالیٰ کو تمام دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد بھی (اسے نہیں پا سکتا)؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جہاد بھی نہیں، مگر ایسا شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلا اور لوٹا ہی نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/العیدین 11 (969)، سنن الترمذی/الصوم 52 (757)، سنن ابن ماجہ/الصیام 39 (1727)، (تحفة الأشراف: 5614)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/224، 338، 346)، سنن الدارمی/الصیام 52 (1814) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (969)
الحكم: صحيح