بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سنیچر کا روزہ رکھنے کی اجازت کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: سنیچر کا روزہ رکھنے کی اجازت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2422 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي أَيُّوبَ ، جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ. ح وحَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ حَفْصٌ الْعَتَكِيُّ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهِيَ صَائِمَةٌ. فَقَالَ: أَصُمْتِ أَمْسِ؟ قَالَتْ: لَا. قَالَ: تُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا؟ قَالَتْ: لَا. قَالَ: فَأَفْطِرِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے یہاں جمعہ کے دن تشریف لائے اور وہ روزے سے تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے کل بھی روزہ رکھا تھا؟ کہا: نہیں، فرمایا: کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ بولیں: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر روزہ توڑ دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 63 (1986)، (تحفة الأشراف: 15789)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ (2754)، مسند احمد (6/324، 430) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1986)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2423 سنن ابو داؤد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، اللَّيْثَ ، ابْنِ شِهَابٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ، يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ،" أَنَّهُ كَانَ إِذَا ذُكِرَ لَهُ أَنَّهُ نُهِيَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ، يَقُولُ ابْنُ شِهَابٍ: هَذَا حَدِيثٌ حِمْصِيٌّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ ان کے سامنے جب سنیچر (ہفتے) کے دن روزے کی ممانعت کا تذکرہ آتا تو کہتے کہ یہ حمص والوں کی حدیث ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث (2421)، (تحفة الأشراف: 15910) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس جملہ سے حدیث نمبر (۲۴۲۱) کی تضعیف مقصود ہے لیکن،صحیح حدیث کی تضعیف کا یہ انداز بڑا عجیب و غریب ہے، بالخصوص امام زہری جیسے جلیل القدر امام سے، ائمۃ حدیث نے حدیث کی تصحیح فرمائی ہے (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ۷؍ ۱۷۹)
قال الشيخ الألباني
مقطوع مرفوض
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: مقطوع مرفوض
حدیث نمبر: 2424 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ ، الْوَلِيدُ ، الْأَوْزَاعِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: مَا زِلْتُ لَهُ كَاتِمًا حَتَّى رَأَيْتُهُ انْتَشَرَ يَعْنِي حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ هَذَا فِي صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مَالِكٌ: هَذَا كَذِبٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اوزاعی کہتے ہیں کہ میں برابر عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہما کی حدیث (یعنی سنیچر (ہفتے) کے روزے کی ممانعت والی حدیث) کو چھپاتا رہا یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ وہ لوگوں میں مشہور ہو گئی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کہتے ہیں: یہ روایت جھوٹی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث (2421)، (تحفة الأشراف: 15910) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: امام مالک کا یہ قول مرفوض ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
الوليد بن مسلم عنعن
و قول أبي داود عن مالك،ضعيف لإنقطاعه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 90
الحكم: صحيح مقطوع