بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سنیچر کے دن کو روزہ کے لیے خاص کرنا منع ہے۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: سنیچر کے دن کو روزہ کے لیے خاص کرنا منع ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2421 سنن ابو داؤد
حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ ، يَزِيدُ بْنُ قُبَيْسٍ ، الْوَلِيدُ ، ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ السُّلَمِيِّ ، أُخْتِهِ
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ. ح وحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ قُبَيْسٍ مِنْ أَهْلِ جَبَلَة، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، جَمِيعًا عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ السُّلَمِيِّ، عَنْ أُخْتِهِ، وَقَالَ يَزِيدُ الصَّمَّاءِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِي مَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ عِنَبَةٍ أَوْ عُودَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضَغْهُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا حَدِيثٌ مَنْسُوخٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن بسر سلمی مازنی رضی اللہ عنہما اپنی بہن مّاء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فرض روزے کے علاوہ کوئی روزہ سنیچر (ہفتے) کے دن نہ رکھو اگر تم میں سے کسی کو (اس دن کا نفلی روزہ توڑنے کے لیے) کچھ نہ ملے تو انگور کا چھلکہ یا درخت کی لکڑی ہی چبا لے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ منسوخ حدیث ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الصوم 43 (744)، سنن ابن ماجہ/الصیام 38 (1726)، (تحفة الأشراف: 15910، 18964، 19250)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/368)، سنن الدارمی/الصوم 40 (1790) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے، اور اس میں کراہت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی سنیچر کو روزہ کے لئے مخصوص کر دے، کیونکہ یہود اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، اس تأویل کی صورت میں امام ابوداود کا اسے منسوخ کہنا درست نہیں ہے، اور کسی صورت میں اس حدیث میں اور اگلے باب کی حدیث (اور اس دن کے صیام نبوی کی احادیث) میں کوئی تعارض نہیں باقی رہ جاتا، کہ روزہ رکھنے کی صورت میں اس دن کو مخصوص نہیں کیا گیا، (ملاحظہ ہو: تہذیب السنن لابن القیم ۳؍ ۲۹۷- ۳۰۱، و زاد المعاد۱؍۲۳۷- ۲۳۸، وصحیح ابی داود ۷؍۱۸۰)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2063)
أخرجه الترمذي (744 وسنده صحيح) وابن ماجه (1726 وسنده حسن)
الحكم: صحيح