بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عیدین (عیدالفطر اور عید الاضحی) کے دن روزہ کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: عیدین (عیدالفطر اور عید الاضحی) کے دن روزہ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2416 سنن ابو داؤد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي عُبَيْدٍ ، عُمَرَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، أَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى فَتَأْكُلُونَ مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ، وَأَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو عبید کہتے ہیں کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے: عید الاضحی کے روزے سے تو اس لیے کہ تم اس میں اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو، اور عید الفطر کے روزے سے اس لیے کہ تم اپنے روزوں سے فارغ ہوتے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 66 (1990)، الأضاحی 16 (5571)، صحیح مسلم/الصیام 22 (1137)، سنن الترمذی/الصوم 58 (771)، سنن ابن ماجہ/الصیام 36 (1722)، (تحفة الأشراف: 10663)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العیدین 2 (5)، مسند احمد (1/24، 34، 40) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1990) صحيح مسلم (1137)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2417 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وُهَيْبٌ ، عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي سَاعَتَيْنِ بَعْدَ الصُّبْحِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا: ایک عید الفطر کے دوسرے عید الاضحی کے، اسی طرح دو لباسوں سے منع فرمایا ایک صمّاء ۱؎ دوسرے ایک کپڑے میں احتباء ۲؎ کرنے سے (جس سے ستر کھلنے کا اندیشہ رہتا ہے) نیز دو وقتوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا: ایک فجر کے بعد، دوسرے عصر کے بعد۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الجمعة 6 (884)، وجزاء الصید 26 (1864)، والصوم 68 (1996)،صحیح مسلم/الصوم22 (827)، سنن الترمذی/الصوم 58 (772)، (تحفة الأشراف: 4404)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 36 (1722)، مسند احمد (3/34، 96)، سنن الدارمی/الصوم 43 (1794) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: «صماء» کی صورت یہ ہے کہ آدمی پورے جسم پر کپڑا لپیٹ لے جس میں کوئی ایسا شگاف نہ ہو کہ ہاتھ باہر نکال سکے اور اپنے ہاتھ سے کوئی موذی چیز دفع کر سکے۔
۲؎: «احتباء» کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں کھڑا رکھے، انہیں پیٹ سے ملائے رکھے، اور دونوں سرین پر بیٹھے اور کپڑے سے دونوں پاؤں اور پیٹ باندھ لے یا ہاتھوں سے حلقہ دے لے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1991، 1992) صحيح مسلم (827 بعد ح 1138)
الحكم: صحيح