نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي الْعنبس ، الْأَغَرِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي الْعنبس عَنْ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ فَرَخَّصَ لَهُ، وَأَتَاهُ آخَرُ فَسَأَلَهُ، فَنَهَاهُ. فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهُ شَيْخٌ وَالَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روزہ دار کے بیوی سے چمٹ کر سونے کے متعلق پوچھا، آپ نے اس کو اس کی اجازت دی، اور ایک دوسرا شخص آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے بھی اسی سلسلہ میں آپ سے پوچھا تو اس کو منع کر دیا، جس کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اجازت دی تھی، وہ بوڑھا تھا اور جسے منع فرمایا تھا وہ جوان تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2387]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12198) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2006)
وللحديث شاھد عند البيھقي (4/231، 232)
الحكم: حسن صحيح