بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نظر نیچی رکھنے کا حکم۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: نظر نیچی رکھنے کا حکم۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 7
حدیث نمبر: 2148 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، سُفْيَانُ ، يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي زُرْعَةَ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ، فَقَالَ:" اصْرِفْ بَصَرَكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (اجنبی عورت پر) اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی نظر پھیر لو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2148]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الآداب 10 (2159)، سنن الترمذی/الأدب 28 (2776)، (تحفة الأشراف: 3237)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/358، 361)، سنن الدارمی/الاستئذان 15 (2685) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اگر قصداً شہوت کی نظر سے اسے دیکھے تو گنہگار ہو گا کیوں کہ اگلی حدیث میں ہے: آنکھ کا زنا غیر محرم عورت کا دیکھنا ہے ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2159)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2149 سنن ابو داؤد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ، شَرِيكٌ ، أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ ، ابْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ:" يَا عَلِيُّ، لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: علی! (اجنبی عورت پر) نگاہ پڑنے کے بعد دوبارہ نگاہ نہ ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لیے جائز ہے، دوسری جائز نہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الأدب 28 (2777)، (تحفة الأشراف: 2007)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/159، 5/351، 357) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: کیوں کہ پہلی نظر بغیر قصد و اختیار کے پڑی ہے اس لئے اس پر کوئی گناہ نہیں، اور دوسری نظر چونکہ قصداً ہو گی اس لئے اس پر گناہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2777)
شريك القاضي مدلس وعنعن
وللحديث شاھد ضعيف عند الحاكم (3/ 123)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 81
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 2150 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ لِتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عورت عورت سے بدن نہ چپکائے وہ اپنے شوہر سے اس کے بارے میں اس طرح بیان کرے گویا اس کا شوہر اسے دیکھ رہا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/النکاح 118 (5241)، سنن الترمذی/الأدب 38 (2792)، (تحفة الأشراف: 9252)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ عشرة النساء (9231)، مسند احمد (1/387، 440، 443، 462، 464) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (5241)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2151 سنن ابو داؤد
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً فَدَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ لَهُمْ:" إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ، فَإِنَّهُ يُضْمِرُ مَا فِي نَفْسِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو (اپنی بیوی) زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے اپنی ضرورت پوری کی، پھر صحابہ کرام کے پاس گئے اور ان سے عرض کیا: عورت شیطان کی شکل میں نمودار ہوتی ہے ۱؎، تو جس کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش آئے وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے، کیونکہ یہ اس کے دل میں آنے والے احساسات کو ختم کر دے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/النکاح 2 (1403)، سنن الترمذی/الرضاع 9 (1158)، (تحفة الأشراف: 2975)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ عشرة النساء (9121)، مسند احمد (3/330) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: عورت کو شیطان کی شکل میں اس وجہ سے فرمایا کہ جیسے شیطان آدمی کو بہکاتا ہے ویسے بے پردہ عورت بھی بہکاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1403)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2152 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، ابْنُ ثَوْرٍ ، مَعْمَرٍ ، ابْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ، وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ وَيُكَذِّبُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے (قرآن میں وارد لفظ) «لمم» (چھوٹے گناہ) کے مشابہ ان اعمال سے زیادہ کسی چیز کو نہیں پایا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث میں مذکور ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زنا کا جتنا حصہ ہر شخص کے لیے لکھ دیا ہے وہ اسے لازمی طور پر پا کر رہے گا، چنانچہ آنکھوں کا زنا (غیر محرم کو بنظر شہوت) دیکھنا ہے زبان کا زنا (غیر محرم سے شہوت کی) بات کرنی ہے، (انسان کا) نفس آرزو اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2152]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الاستئذان 12 (4243)، والقدر 9 (2612)، صحیح مسلم/القدر 5 (2657)، (تحفة الأشراف: 13573)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/276) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6243) صحيح مسلم (2657)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2153 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لِكُلِّ ابْنِ آدَمَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا"، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ:" وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ فَزِنَاهُمَا الْبَطْشُ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ فَزِنَاهُمَا الْمَشْيُ، وَالْفَمُ يَزْنِي فَزِنَاهُ الْقُبَلُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر انسان کے لیے زنا کا حصہ متعین ہے، ہاتھ زنا کرتے ہیں، ان کا زنا پکڑنا ہے، پیر زنا کرتے ہیں ان کا زنا چلنا ہے، اور منہ زنا کرتا ہے اس کا زنا بوسہ لینا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2153]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12625)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/343، 536) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: چوں کہ یہ امور زنا کے ذرائع ہیں، اس لئے تشدیداً انہیں بھی زنا سے تعبیر کیا گیا ہے، گو ان کا گناہ زنا کے گناہ کے برابر نہیں۔
قال الشيخ الألباني
حسن م دون جملة الفم
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح، صحيح مسلم (2657)
الحكم: حسن م دون جملة الفم
حدیث نمبر: 2154 سنن ابو داؤد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ:" وَالْأُذُنُ زِنَاهَا الِاسْتِمَاعُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: اور کانوں کا زنا سننا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12867)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/379) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
وله شاھد في صحيح مسلم (2657) وبه صح الحديث
الحكم: حسن صحيح