بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کام کے عوض نکاح کرنے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: کام کے عوض نکاح کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2111 سنن ابو داؤد
الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ؟" فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكَ إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِزَارَكَ جَلَسْتَ وَلَا إِزَارَ لَكَ فَالْتَمِسْ شَيْئًا"، قَالَ: لَا أَجِدُ شَيْئًا، قَالَ:" فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ"، فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَهَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟" قَالَ: نَعَمْ، سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا، لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے، پھر وہ کافی دیر کھڑی رہی (اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا) تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! اگر آپ کو حاجت نہیں تو اس سے میرا نکاح کرا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اسے مہر میں ادا کرنے کے لیے کچھ ہے؟ وہ بولا: میرے اس تہبند کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اپنا ازار اسے (مہر میں) دے دو گے تو تمہارے پاس تو ازار بھی نہیں رہے گا، لہٰذا کوئی اور چیز تلاش کرو، وہ بولا: اور تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو، تو اس نے تلاش کیا لیکن اسے کچھ نہ ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تجھے کچھ قرآن یاد ہے؟ کہنے لگا: ہاں فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں، ان کا نام لے کر اس نے بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے کہا: جو کچھ تجھے قرآن یاد ہے اسی کے (یاد کرانے کے) بدلے میں نے اس کے ساتھ تیرا نکاح کر دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الوکالة 9 (2310)، وفضائل القرآن 21 (5029)، 22 (5030)، والنکاح 14(5087)، 32 (5121)، 35 (5126)، 37 (5132)، 40 (5135)، 44 (5141)، 50 (5149)، 51 (5150)، واللباس 49(7117)، سنن الترمذی/النکاح 23 (1114)، سنن النسائی/النکاح 69 (3361)، (تحفة الأشراف: 4742)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 13(1425)، سنن ابن ماجہ/النکاح 17(1889)، موطا امام مالک/النکاح 3 (8)، مسند احمد (5/336)، سنن الدارمی/النکاح 19 (2247) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہر میں مال کی کوئی تحدید نہیں، خواہ قلیل ہو یا کثیر اس طرح محنت مزدوری یا تعلیم قرآن پر بھی نکاح درست ہے، جمہور علما کی یہی رائے ہے، اور بعض نے دس درہم کی تحدید کی ہے، ان کے نزدیک اس سے کم میں مہر درست نہیں، لیکن ان کے دلائل اس قابل نہیں کہ ان صحیح احادیث کا معارضہ کر سکیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2310) صحيح مسلم (1425)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2112 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْبَاهِلِيِّ ، عِسْلٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عِسْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَ هَذِهِ الْقِصَّةِ، لَمْ يَذْكُرِ الْإِزَارَ وَالْخَاتَمَ، فَقَالَ:" مَا تَحْفَظُ مِنَ الْقُرْآنِ؟" قَالَ: سُورَةَ الْبَقَرَةِ، أَوِ الَّتِي تَلِيهَا، قَالَ:" فَقُمْ، فَعَلِّمْهَا عِشْرِينَ آيَةً وَهِيَ امْرَأَتُكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی واقعہ کی طرح مروی ہے لیکن اس میں تہبند اور انگوٹھی کا ذکر نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تجھے قرآن میں سے کیا یاد ہے؟ جواب دیا: سورۃ البقرہ یا اس کے بعد والی سورت تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے بیس آیتیں سکھا دو اور وہ تمہاری بیوی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14194)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ النکاح (5506) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عسل ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عسل : ضعيف وضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد 267/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 80
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 2113 سنن ابو داؤد
هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، أَبِي ، مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، مَكْحُولٍ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، نَحْوَ خَبَرِ سَهْلٍ، قَالَ: وَكَانَ مَكْحُولٌ يَقُولُ: لَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مکحول سے بھی سہل کی روایت کی طرح مروی ہے، مکحول کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی کے لیے یہ درست نہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19478) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (یہ روایت مرسل ہے، مکحول صحابی نہیں تابعی ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
إسناده حسن إلي مكحول، وھذا من قوله
الحكم: ضعيف