بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: آیت کریمہ «لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن» کی تفسیر۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: آیت کریمہ «لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن» کی تفسیر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2089 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الشَّيْبَانِيُّ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ الشَّيْبَانِيُّ وَذَكَرَهُ عَطَاءٌ أَبُو الْحَسَنِ السُّوَائِيُّ، وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ: لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلا تَعْضُلُوهُنَّ سورة النساء آية 19، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ إِذَا مَاتَ كَانَ أَوْلِيَاؤُهُ أَحَقَّ بِامْرَأَتِهِ مِنْ وَلِيِّ نَفْسِهَا، إِنْ شَاءَ بَعْضُهُمْ زَوَّجَهَا أَوْ زَوَّجُوهَا، وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يُزَوِّجُوهَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت کریمہ: «لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن» تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم عورتوں کے بھی زبردستی وارث بن بیٹھو اور نہ ہی تم انہیں نکاح سے اس لیے روک رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں کچھ لے لو (سورۃ البقرہ: ۱۹) کی تفسیر کے سلسلہ میں مروی ہے کہ جب آدمی کا انتقال ہو جاتا تو اس (آدمی) کے اولیا یہ سمجھتے تھے کہ اس عورت کے ہم زیادہ حقدار ہیں بہ نسبت اس کے ولی کے، اگر وہ چاہتے تو اس کا نکاح کر دیتے اور اگر نہ چاہتے تو نہیں کرتے، چنانچہ اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/تفسیر النساء 6 (4579)، الإکراہ 6 (6948)، سنن النسائی/ الکبری/ التفسیر (11094)، (تحفة الأشراف: 6100، 6256)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی آدمی مر جائے تو اس کی عورت کو اپنے نکاح کا اختیار ہے، میت کے رشتہ داروں کو اسے زبردستی اپنے نکاح میں لینا جائز نہیں، اور نہ انہیں یہ حق ہے کہ وہ اسے نکاح سے روکیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (4579، 6948)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2090 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ ، عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، أَبِيهِ ، يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ سورة النساء آية 19، وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَرِثُ امْرَأَةَ ذِي قَرَابَتِهِ فَيَعْضُلُهَا حَتَّى تَمُوتَ، أَوْ تَرُدَّ إِلَيْهِ صَدَاقَهَا، فَأَحْكَمَ اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ، وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا يحل لكم أن ترثوا النساء كرها ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة» اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو تم انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو (سورۃ البقرہ: ۲۳۲) کے متعلق مروی ہے کہ ایسا ہوتا تھا کہ آدمی اپنی کسی قرابت دار عورت کا وارث ہوتا تو اسے دوسرے سے نکاح سے روکے رکھتا یہاں تک کہ وہ یا تو مر جاتی یا اسے اپنا مہر دے دیتی تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں حکم نازل فرما کر ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2090]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6256) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
انظر الحديث السابق (1304)
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 2091 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ شَبُّوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، الضَّحَّاكِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبُّوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ مَوْلَى عُمَرَ، عَنْ الضَّحَّاكِ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: فَوَعَظَ اللَّهُ ذَلِكَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ضحاک سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نصیحت فرمائی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عبيداللّٰه مولي عمر بن سالم الباھلي مجھول الحال وثقه ابن حبان وحده
والحديث السابق (الأصل : 2090) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 79
الحكم: صحيح لغيره