بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: منیٰ میں نماز کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل باب: منیٰ میں نماز کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 1960 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، أَبَا مُعَاوِيَةَ ، وَحَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدُ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ أَبَا مُعَاوِيَةَ، وَحَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ حَدَّثَاهُ وَحَدِيثُ أَبِي مُعَاوِيَةَ أَتَمُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:" صَلَّى عُثْمَانُ بِمِنًى أَرْبَعًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ، زَادَ عَنْ حَفْصٍ، وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّهَا، زَادَ مِنْ هَا هُنَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ: ثُمَّ تَفَرَّقَتْ بِكُمُ الطُّرُقُ، فَلَوَدِدْتُ أَنْ لِي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَيْنِ مُتَقَبَّلَتَيْنِ، قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثَنِي مُعَاوِيَةَ بْنُ قُرَّةَ، عَنْ أَشْيَاخِهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ صَلَّى أَرْبَعًا، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: عِبْتَ عَلَى عُثْمَانَ ثُمَّ صَلَّيْتُ أَرْبَعًا، قَالَ: الْخِلَافُ شَرٌّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ دو ہی رکعتیں پڑھیں (اور حفص کی روایت میں اتنا مزید ہے کہ) عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے شروع میں، پھر وہ پوری پڑھنے لگے، (ایک روایت میں ابومعاویہ سے یہ ہے کہ) پھر تمہاری رائیں مختلف ہو گئیں، میری تو خواہش ہے کہ میرے لیے چار رکعتوں کے بجائے دو مقبول رکعتیں ہی ہوں۔ اعمش کہتے ہیں: مجھ سے معاویہ بن قرہ نے اپنے شیوخ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے چار رکعتیں پڑھیں، تو ان سے کہا گیا: آپ نے عثمان پر اعتراض کیا، پھر خود ہی چار پڑھنے لگے؟ تو انہوں نے کہا: اختلاف برا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1960]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/تقصیرالصلاة 2 (1084)، والحج 84 (1657)، صحیح مسلم/المسافرین 2 (695)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة 3 (1450)، (تحفة الأشراف: 9383)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/378، 416، 422، 425، 464)، سنن الدارمی/المناسک 47 (1916) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح دون حديث معاوية بن قرة
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1084) صحيح مسلم (695)
الحكم: صحيح دون حديث معاوية بن قرة
حدیث نمبر: 1961 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُثْمَانَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ،" أَنَّ عُثْمَانَ إِنَّمَا صَلَّى بِمِنًى أَرْبَعًا لِأَنَّهُ أَجْمَعَ عَلَى الْإِقَامَةِ بَعْدَ الْحَجِّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زہری سے روایت ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعتیں صرف اس لیے پڑھیں کہ انہوں نے حج کے بعد وہاں اقامت کی نیت کی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1961]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں انقطاع ہے، زہری نے عثمان رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
الزھري لم يدرك عثمان رضي اللّٰه عنه (اتحاف المھرة 81/11)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
رٌّ
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 1962 سنن ابو داؤد
هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، الْمُغِيرَةِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عُثْمَانَ
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ:" إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى أَرْبَعًا لِأَنَّهُ اتَّخَذَهَا وَطَنًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابراہیم کہتے ہیں عثمان رضی اللہ عنہ نے چار رکعتیں پڑھیں اس لیے کہ انہوں نے منیٰ کو وطن بنا لیا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1962]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں انقطاع ہے، ابراہیم نخعی نے عثمان رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
إبراهيم النخعي لم يدرك عثمان رضي اللّٰه عنه،ولد سنة 46ھـ بعد شهادة عثمان رضي اللّٰه عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 1963 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُثْمَانُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ:" لَمَّا اتَّخَذَ عُثْمَانُ الْأَمْوَالَ بِالطَّائِفِ وَأَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا صَلَّى أَرْبَعًا، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ بِهِ الْأَئِمَّةُ بَعْدَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زہری کہتے ہیں جب عثمان رضی اللہ عنہ نے طائف میں اپنی جائیداد بنائی اور وہاں قیام کرنے کا ارادہ کیا تو وہاں چار رکعتیں پڑھیں، وہ کہتے ہیں: پھر اس کے بعد ائمہ نے اسی کو اپنا لیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1963]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں زہری اور عثمان رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث المتقدم (1961)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 1964 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ،" أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمِنًى مِنْ أَجْلِ الْأَعْرَابِ لِأَنَّهُمْ كَثُرُوا عَامَئِذٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ أَرْبَعًا لِيُعَلِّمَهُمْ أَنَّ الصَّلَاةَ أَرْبَعٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زہری سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں نماز اس وجہ سے پوری پڑھی کہ اس سال بدوی لوگ بہت آئے تھے تو انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ نماز (اصل میں) چار رکعت ہی ہے (نہ کہ دو، جو قصر کی صورت میں پڑھی جاتی ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1964]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود (حسن لغیرہ)» ‏‏‏‏ (سند میں زہری اور عثمان رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن دوسرے متصل طریق سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہوئی، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 6؍ 206)
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديثين السابقين (1961 و 1962)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
الحكم: حسن