بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عرفات میں منبر پر خطبہ دینے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل باب: عرفات میں منبر پر خطبہ دینے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1915 سنن ابو داؤد
هَنَّادٌ ، ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، رَجُلٍ ، أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ضَمْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِعَرَفَةَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بنی ضمرہ کے ایک آدمی اپنے والد یا اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عرفات میں منبر پر (خطبہ دیتے) دیکھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1915]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15700)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/194، 369، 430) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں ایک راوی «رَجُلٌ» مبہم ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
رجل من بني ضمرة لم أعرفه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 1916 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ ، رَجُلٍ ، نُبَيْطٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْحَيِّ، عَنْ أَبِيهِ نُبَيْطٍ، أَنَّهُ" رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِعَرَفَةَ عَلَى بَعِيرٍ أَحْمَرَ يَخْطُبُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عرفات میں سرخ اونٹ پر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1916]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الحج 198 (3010)، 199 (3011)، (تحفة الأشراف: 11589)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 158(1286)، مسند احمد (4/ 305، 306) (صحیح)» ‏‏‏‏ (مؤلف کے علاوہ دوسروں کے یہاں سند میں «عن رجل» کا اضافہ نہیں ہے اور سلمہ کا اپنے والد سے سماع ثابت ہے اس لئے یہ حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3010) ابن ماجه (1286)
رجل من الحي مجھول
والحديث الآتي (الأصل : 1917) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1917 سنن ابو داؤد
هنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، عَبْدِ الْمَجِيدِ ، الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ
حَدَّثَنَا هنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ، قَالَ هَنَّادٌ:عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ الْعَدَّاءِ بْنِ هَوْذَةَ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ عَرَفَةَ عَلَى بَعِيرٍ قَائِمٌ فِي الرِّكَابَيْنِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ وَكِيعٍ، كَمَا قَالَ هَنَّادٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
خالد بن عداء بن ہوذہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں عرفہ کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک اونٹ پر دونوں رکابوں کے درمیان کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ ۱؎ دیتے دیکھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن العلاء نے وکیع سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ہناد نے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1917]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9849)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/30) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یہی صحیح ہے اور باب کی پہلی حدیث جس میں میدان عرفات میں منبر پر خطبہ دینے کا تذکرہ ہے وہ سند کے اعتبار سے کمزور ہے، واضح رہے کہ اس وقت وہاں منبر تھا ہی نہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر خطبہ دیتے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2597)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1918 سنن ابو داؤد
عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عَبْدُ الْمَجِيدِ أَبُو عَمْرٍو ، الْعَدَّاءِ
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ أَبُو عَمْرٍو، عَنْ الْعَدَّاءِ، بِمَعْنَاهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی عداء بن خالد سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1918]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9849) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
انظر الحديث السابق (1917)
الحكم: حسن