إِسْحَاقُ بنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، عَزْرَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَ إِسْحَاقُ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا، يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، قَالَ:" مَنْ شُبْرُمَةُ؟" قَالَ: أَخٌ لِي، أَوْ قَرِيبٌ لِي، قَالَ:" حَجَجْتَ عَنْ نَفْسِكَ"، قَالَ: لَا، قَالَ:" حُجَّ عَنْ نَفْسِكَ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے سنا: «لبيك عن شبرمة» ”حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے“ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا: ”شبرمہ کون ہے؟“، اس نے کہا: میرا بھائی یا میرا رشتے دار ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے اپنا حج کر لیا ہے؟“، اس نے جواب دیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے اپنا حج کرو پھر (آئندہ) شبرمہ کی طرف سے کرنا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1811]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/المناسک 9 (2903)، (تحفة الأشراف: 5564) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: بعض علماء کے نزدیک حج بدل (دوسرے کی طرف سے حج کرنا) درست ہے، خواہ اپنی طرف سے حج نہ کر سکا ہو، بعض ائمہ کے نزدیک اگر وہ اپنی طرف سے حج نہیں کر سکا ہے تو دوسرے کی طرف سے حج بدل درست نہ ہو گا، اور یہی صحیح مذہب ہے، اس لئے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کو جو «لبيك عن شبرمة» کہہ رہا تھا حکم دیا: «حج عن نفسك ثم حج عن شبرمة» : ”پہلے اپنی طرف سے حج کرو پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرو“۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (2529)
وللحديث شاھد حسن لذاته عند الطبراني في الصغير (226/1) وشاھد آخر عند البيهقي (179/5، 180) والطحاوي في مشكل الآثار (381/6 تحت ح2548) وسنده صحيح موقوف وله حكم الرفع
الحكم: صحيح