بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ہدی کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل باب: ہدی کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1749 سنن ابو داؤد
النُّفَيْلِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ابْنِ إِسْحَاقَ الْمَعْنَى ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ الْمَعْنَى، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ، حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَهْدَى عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي هَدَايَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَلًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ فِي رَأْسِهِ بُرَةُ فِضَّةٍ"، قَالَ ابْنُ مِنْهَالٍ:" بُرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ"، زَادَ النُّفَيْلِيُّ:" يَغِيظُ بِذَلِكَ الْمُشْرِكِينَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حدیبیہ کے سال ہدی ۱؎ کے لیے جو اونٹ بھیجا ان میں ایک اونٹ ابوجہل کا ۲؎ تھا، اس کے سر میں چاندی کا چھلا پڑا تھا، ابن منہال کی روایت میں ہے کہ سونے کا چھلا تھا، نفیلی کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مشرکین کو غصہ دلا رہے تھے ۳؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6406)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 98 (3100) مسند احمد (1/261، 273) (حسن) بلفظ: ’’فضة‘‘» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ہدی: حج میں ذبح کے لئے لے جانے والے جانور کو کہتے ہیں۔
۲؎: یہ اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جنگ میں بطور غنیمت ملا تھا۔
۳؎: تاکہ یہ تأثر دیا جائے کہ مشرکین کے سردار کا اونٹ مسلمانوں کے قبضے میں ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن بلفظ فضة
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (2640)
وللحديث شواھد عند مالك (1/337) وابن ماجه (3100، 3101) وغيرھما
الحكم: حسن بلفظ فضة