بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سر کے بال کی تلبید (یعنی گوند وغیرہ سے جما لینے) کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل باب: سر کے بال کی تلبید (یعنی گوند وغیرہ سے جما لینے) کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1747 سنن ابو داؤد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تلبیہ پڑھتے سنا اور آپ اپنے سر کی تلبید ۱؎ کئے ہوئے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1747]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الحج 19 (1540)، واللباس 69 (5914)، صحیح مسلم/الحج 3 (1184)، سنن النسائی/المناسک 40 (2684)، سنن ابن ماجہ/المناسک 72 (3047)، (تحفة الأشراف: 6976)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/121، 131) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: تلبيد: بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لینے کو تلبید کہتے ہیں، تاکہ وہ گرد وغبار نیز بکھرنے سے محفوظ رہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1540) صحيح مسلم (1184)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1748 سنن ابو داؤد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَبَّدَ رَأْسَهُ بِالْعَسَلِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے سر کے بال شہد سے جمائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8414) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابن اسحاق مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 69
الحكم: ضعيف