بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جس چیز کا روکنا جائز نہیں اس کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: جس چیز کا روکنا جائز نہیں اس کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1669 سنن ابو داؤد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، كَهْمَسٌ ، سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ ، أَبِيهِ ، بُهَيْسَةُ ، أَبِيهَا
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: بُهَيْسَةُ،عَنْ أَبِيهَا، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" الْمَاءُ"، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" الْمِلْحُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بہیسہ اپنے والد (عمیر) کہتی ہیں کہ میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (آپ کے پاس آنے کی) اجازت طلب کی، (اجازت دے دی تو وہ آئے) اور وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اور آپ کی قمیص کے درمیان داخل ہو گئے (یعنی آپ کی قمیص اٹھا لی) اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بدن مبارک کو چومنے اور آپ سے لپٹنے لگے، پھر انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پانی، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نمک، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم جتنی نیکی کرو اتنی ہی وہ تمہارے لیے بہتر ہے (یعنی پانی نمک تو مت روکو اس کے علاوہ اگر ممکن ہو تو دوسری چیزیں بھی نہ روکو)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، ویأتي برقم: (3476)، (تحفة الأشراف:15697)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 80، 81)، سنن الدارمی/البیوع 70 (2655) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے رواة سیار اور ان کے والد لین الحدیث ہیں اور بہیسہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
والحديث الآتي (3476)
سيار بن منظور و أبوه مستوران لم يوثقھما غير ابن حبان وانظر التحرير (2717،6913)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 67
الحكم: ضعيف