أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَهِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ أَفَأَصِلُهَا، قَالَ:" نَعَمْ فَصِلِي أُمَّكِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس میری ماں آئیں جو قریش کے دین کی طرف مائل اور اسلام سے بیزار اور مشرکہ تھیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں میرے پاس آئی ہیں اور وہ اسلام سے بیزار اور مشرکہ ہیں، کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الھبة 29 (2620)، والجزیة 18 (3183)، والأدب 8 (5978)، صحیح مسلم/الزکاة 14 (1003)، (تحفة الأشراف: 15724)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/344، 347، 355) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2620) صحيح مسلم (1003)
الحكم: صحيح