بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جس مالدار کو صدقہ لینا جائز ہے اس کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: جس مالدار کو صدقہ لینا جائز ہے اس کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1635 سنن ابو داؤد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، مَالِكٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ لِغَارِمٍ، أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ لِرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ فَتُصُدِّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ فَأَهْدَاهَا الْمِسْكِينُ لِلْغَنِيِّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی مالدار کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں سوائے پانچ لوگوں کے: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے، یا زکاۃ کی وصولی کا کام کرنے والے کے لیے، یا مقروض کے لیے، یا ایسے شخص کے لیے جس نے اسے اپنے مال سے خرید لیا ہو، یا ایسے شخص کے لیے جس کا کوئی مسکین پڑوسی ہو اور اس مسکین پر صدقہ کیا گیا ہو پھر مسکین نے مالدار کو ہدیہ کر دیا ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الزکاة 27 (1841)، (تحفة الأشراف:4177، 19090)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة17(29)، مسند احمد (3/4، 31،40، 56، 97) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اگلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ یہ روایت مرسل ہے)
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
مشكوة المصابيح (1833)
انظر الحديث الآتي (1636)
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1636 سنن ابو داؤد
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدٍ، كَمَا قَالَ مَالِكٌ: وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الثَّبْتُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ابن عیینہ نے زید سے اسی طرح روایت کیا جیسے مالک نے کہا ہے اور ثوری نے اسے زید سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک ثقہ راوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:4177، 19090) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (1841 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (2374 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1637 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ ، الْفِرْيَابِيُّ ، سُفْيَانُ ، عِمْرَانَ الْبَارِقِيِّ ، عَطِيَّةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ الْبَارِقِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ابْنِ السَّبِيلِ أَوْ جَارٍ فَقِيرٍ يُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ فَيُهْدِي لَكَ أَوْ يَدْعُوكَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ فِرَاسٌ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی مالدار کے لیے صدقہ حلال نہیں سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی راہ میں ہو یا مسافر ہو یا اس کا کوئی فقیر پڑوسی ہو جسے صدقہ کیا گیا ہو پھر وہ تمہیں ہدیہ دیدے یا تمہاری دعوت کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے فراس اور ابن ابی لیلیٰ نے عطیہ سے، عطیہ نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے اور ابوسعید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:4219)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/31، 40، 97) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (عطیہ عوفی کی وجہ سے یہ روایت سنداً ضعیف ہے، ورنہ سابق سند سے صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عطية العوفي : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
الحكم: ضعيف