مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ ، يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ ، جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، سُلَيْمَانَ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ،حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِي نُعِدُّ لِلْبَيْعِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے امابعد کہا پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ ہم ان چیزوں میں سے زکاۃ نکالیں جنہیں ہم بیچنے کے لیے رکھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4618) (ضعیف)» (اس کے راوی خبیب مجہول ہیں، لیکن مال تجارت پر زکاة اجماعی مسئلہ ہے)
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تجارت کا مال اگر نصاب کو پہنچ جائے تو اس میں بھی زکاۃ ہے، اس مسئلہ پر امت کا اجماع ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
خبيب : مجهول
وجعفر : ضعيف
انظر الحديث المتقدم (975)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 62
الحكم: ضعيف