بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قرآن مجید کے سات حرف پر نازل ہونے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل باب: قرآن مجید کے سات حرف پر نازل ہونے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1475 سنن ابو داؤد
الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيِّ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا، فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ، فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ" فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ لِيَ:" اقْرَأْ" فَقَرَأْتُ، فَقَالَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا، وہ اس طریقے سے ہٹ کر پڑھ رہے تھے جس طرح میں پڑھتا تھا حالانکہ مجھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پڑھایا تھا تو قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کر بیٹھوں ۱؎ لیکن میں نے انہیں مہلت دی اور پڑھنے دیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہو گئے تو میں نے ان کی چادر پکڑ کر انہیں گھسیٹا اور انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۃ الفرقان اس کے برعکس پڑھتے سنا ہے جس طرح آپ نے مجھے سکھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہشام سے فرمایا: تم پڑھو، انہوں نے ویسے ہی پڑھا جیسے میں نے پڑھتے سنا تھا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے، پھر مجھ سے فرمایا: تم پڑھو، میں نے بھی پڑھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے، پھر فرمایا: قرآن مجید سات حرفوں ۲؎ پر نازل ہوا ہے، لہٰذا جس طرح آسان لگے پڑھ۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الخصومات 4 (2419)، وفضائل القرآن 5 (4992)، 27 (5041)، والمرتدین 9 (6936)، والتوحید 53 (7550)، صحیح مسلم/المسافرین 48 (818)، سنن الترمذی/القراء ات 11 (2943)، سنن النسائی/الافتتاح 37 (938، 939)، (تحفة الأشراف:10591)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ القرآن 4 (5)، مسند احمد (1/ 40، 42، 43، 263) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی انہیں قرات سے روک دوں۔
۲؎: علامہ سیوطی نے الاتقان میں اس کی تفسیر میں متعدد اقوال نقل کئے ہیں مثلاً سات حرفوں سے مراد سات لغات ہیں یا سات لہجے ہیں جو عرب کے مختلف قبائل میں مروج تھے یا سات قراتیں ہیں جنہیں قرات سبعہ کہا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2419) صحيح مسلم (818)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1476 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيُّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: إِنَّمَا هَذِهِ الْأَحْرُفُ فِي الْأَمْرِ الْوَاحِدِ لَيْسَ تَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
زہری کہتے ہیں کہ یہ حروف (اگرچہ بظاہر مختلف ہوں) ایک ہی معاملہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں حلال و حرام میں اختلاف نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1476]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح مقطوع
حدیث نمبر: 1477 سنن ابو داؤد
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ الْخُزَاعِيِّ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُبَيُّ، إِنِّي أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ، فَقِيلَ لِي: عَلَى حَرْفٍ أَوْ حَرْفَيْنِ؟، فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي: قُلْ: عَلَى حَرْفَيْنِ، قُلْتُ: عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقِيلَ لِي: عَلَى حَرْفَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ؟، فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي: قُلْ: عَلَى ثَلَاثَةٍ، قُلْتُ: عَلَى ثَلَاثَةٍ، حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ، ثُمَّ قَالَ: لَيْسَ مِنْهَا إِلَّا شَافٍ كَافٍ، إِنْ قُلْتَ سَمِيعًا عَلِيمًا عَزِيزًا حَكِيمًا مَا لَمْ تَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ، أَوْ آيَةَ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا، پھر مجھ سے پوچھا گیا: ایک حرف پر یا دو حرف پر؟ میرے ساتھ جو فرشتہ تھا، اس نے کہا: کہو: دو حرف پر، میں نے کہا: دو حرف پر، پھر مجھ سے پوچھا گیا: دو حرف پر یا تین حرف پر؟ اس فرشتے نے جو میرے ساتھ تھا، کہا: کہو: تین حرف پر، چنانچہ میں نے کہا: تین حرف پر، اسی طرح معاملہ سات حروف تک پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے ہر ایک حرف شافی اور کافی ہے، چا ہے تم «سميعا عليما» کہو یا «عزيزا حكيما» جب تک تم عذاب کی آیت کو رحمت پر اور رحمت کی آیت کو عذاب پر ختم نہ کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف:25)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5 /124، 127، 128) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن ولحديثه شاهد صحيح دون قوله : ’’ سميعًا عليمًا،عزيزًا حكيمًا ‘‘
تعديلات:
وحديث المشكوة (2215) صحيح بالشواهد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 59
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1478 سنن ابو داؤد
ابْنُ الْمُثَنَّى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ" فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ عَلَى حَرْفٍ، قَالَ:أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ إِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ أَتَاهُ ثَانِيَةً، فَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنی غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا: اللہ عزوجل آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک حرف پر قرآن پڑھائیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ سے اس کی بخشش اور مغفرت مانگتا ہوں، میری امت اتنی طاقت نہیں رکھتی ہے، پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور اسی طرح سے کہا، یہاں تک کہ معاملہ سات حرفوں تک پہنچ گیا، تو انہوں نے کہا: اللہ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حرفوں پر پڑھائیں، لہٰذا اب وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے وہ صحیح ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 48 (821)، سنن النسائی/الافتتاح 37 (940)، (تحفة الأشراف:60)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/127) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (821)
الحكم: صحيح