بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سورۃ فاتحہ کی فضیلت کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل باب: سورۃ فاتحہ کی فضیلت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1457 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ أُمُّ الْقُرْآنِ، و أُمُّ الْكِتَابِ، و السَّبْعُ الْمَثَانِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «الحمد لله رب العالمين» ام القرآن اور ام الکتاب ہے اور سبع مثانی ۱؎ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/تفسیر القرآن 3 (4704)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 1 (2825)، وتفسیر القرآن 16 (3124)، (تحفة الأشراف:13014)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح 26 (915)، مسند احمد (2/448)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 12 (3417) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: سبع اس لئے کہ اس میں سات آیتیں ہیں اور مثانی اس لئے کہ وہ ہر نماز میں دہرائی جاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (4704)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1458 سنن ابو داؤد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، خَالِدٌ ، شُعْبَةُ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ ، أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَعَاهُ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي؟"، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي، قَالَ:" أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24، لَأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، أَوْ فِي الْقُرْآنِ شَكَّ خَالِدٌ، قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْلُكَ، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي الَّتِي أُوتِيتُ وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ان کے پاس سے ہوا وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ نے انہیں بلایا، میں (نماز پڑھ کر) آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: تم نے مجھے جواب کیوں نہیں دیا؟، عرض کیا: میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: اے مومنو! جواب دو اللہ اور اس کے رسول کو، جب رسول اللہ تمہیں ایسے کام کے لیے بلائیں، جس میں تمہاری زندگی ہے میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورۃ سکھاؤں گا اس سے پہلے کہ میں مسجد سے نکلوں، (جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد سے نکلنے لگے) تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابھی آپ نے کیا فرمایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ سورۃ «الحمد لله رب العالمين» ہے اور یہی سبع مثانی ہے جو مجھے دی گئی ہے اور قرآن عظیم ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/تفسیر الفاتحة 1 (4474)، وتفسیر الأنفال 3 (4648)، وتفسیر الحجر 3 (4703)، وفضائل القرآن 9 (5006)، سنن النسائی/الافتتاح 26 (914)، سنن ابن ماجہ/الأدب 52 (3785)، (تحفة الأشراف:12047)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 7 (37)، مسند احمد (3/450، 4/211)، سنن الدارمی/الصلاةٔ 172 (1533)، وفضائل القرآن 12 (3414) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (4474)
الحكم: صحيح