بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نماز میں دیر تک قیام کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل باب: نماز میں دیر تک قیام کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1449 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" طُولُ الْقِيَامِ" قِيلَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جَهْدُ الْمُقِلِّ" قِيلَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ" قِيلَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ" قِيلَ: فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ؟ قَالَ:" مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نماز میں دیر تک کھڑے رہنا، پھر پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کم مال والا محنت کی کمائی میں سے جو صدقہ دے، پھر پوچھا گیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی ہجرت جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جنہیں اللہ نے اس پر حرام کیا ہے، پھر پوچھا گیا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا جہاد جس نے اپنی جان و مال کے ساتھ مشرکین سے جہاد کیا ہو، پھر پوچھا گیا: کون سا قتل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جس کا خون بہایا گیا ہو اور جس کے گھوڑے کے ہاتھ پاؤں کاٹ لیے گئے ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1449]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظرحدیث رقم: (1325)، (تحفة الأشراف:5241) (صحیح) بلفظ: ”أي الصلاة“» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح بلفظ أي الصلاة
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3833)
أخرجه النسائي (2527 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (1325)
الحكم: صحيح بلفظ أي الصلاة