بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: تہجد میں بلند آواز سے قرآت کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد ابواب: قیام الیل کے احکام و مسائل باب: تہجد میں بلند آواز سے قرآت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 7
حدیث نمبر: 1327 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَدْرِ مَا يَسْمَعُهُ مَنْ فِي الْحُجْرَةِ وَهُوَ فِي الْبَيْتِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرآت اتنی اونچی آواز سے ہوتی کہ آنگن میں رہنے والے کو سنائی دیتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ اپنے گھر میں (نماز پڑھ رہے) ہوتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1327]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الشمائل (321)، مسند احمد 1/271، (تحفة الأشراف: 6177) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1203)
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 1328 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ:" كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ يَرْفَعُ طَوْرًا وَيَخْفِضُ طَوْرًا". قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو خَالِدٍ الْوَالِبِيُّ اسْمُهُ هُرْمُزُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قرآت کبھی بلند آواز سے ہوتی تھی اور کبھی دھیمی آواز سے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1328]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14882) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1202)
صححه ابن خزيمة (1159 وسنده حسن)
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 1329 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَيْلَةً فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهِ، قَالَ: وَمَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ، قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ صَوْتَكَ" قَالَ: قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَقَالَ لِعُمَرَ:" مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَكَ" قَالَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوقِظُ الْوَسْنَانَ، وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ. زَادَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا"، وَقَالَ لِعُمَرَ:" اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک رات باہر نکلے تو دیکھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے ہیں اور پست آواز سے قرآت کر رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عمر کے پاس سے گزرے اور وہ بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے، جب دونوں (ابوبکر و عمر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! میں تمہارے پاس سے گزرا اور دیکھا کہ تم دھیمی آواز سے نماز پڑھ رہے ہو، آپ نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے اس کو (یعنی اللہ تعالیٰ کو) سنا دیا ہے، جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تمہارے پاس سے گزرا تو تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں سوتے کو جگاتا اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔ حسن بن الصباح کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! تم اپنی آواز تھوڑی بلند کر لو، اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کر لو ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1329]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 213 (447)، (تحفة الأشراف: 18465، 12088) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا» (سورۃ الاسراء: ۱۱۰) نہ بلند آواز سے اور نہ ہی چپکے چپکے پڑھ بلکہ بیچ کی راہ تلاش کر ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1204)
أخرجه الترمذي (447 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (1161 وسنده حسن)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1330 سنن ابو داؤد
أَبُو حُصَيْنِ بْنُ يَحْيَى الرَّازِيُّ ، أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنِ بْنُ يَحْيَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، لَمْ يَذْكُرْ: فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا، وَلِعُمَرَ: اخْفِضْ شَيْئًا، زَادَ:" وَقَدْ سَمِعْتُكَ يَا بِلَالُ وَأَنْتَ تَقْرَأُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ، وَمِنْ هَذِهِ السُّورَةِ" قَالَ: كَلَامٌ طَيِّبٌ يَجْمَعُ اللَّهُ تَعَالَى بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّكُمْ قَدْ أَصَابَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی واقعہ مرفوعاً مروی ہے اس میں «فقال لأبي بكر: ارفع من صوتك شيئًا ولعمر اخفض شيئًا» کے جملہ کا ذکر نہیں اور یہ اضافہ ہے: اے بلال! میں نے تم کو سنا ہے کہ تم تھوڑا اس سورۃ سے پڑھتے ہو اور تھوڑا اس سورۃ سے، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک پاکیزہ کلام ہے، اللہ بعض کو بعض کے ساتھ ملاتا ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم سب نے ٹھیک کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15004) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 1331 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَ فَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْحَمُ اللَّهُ فُلَانًا، كَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ أَذْكَرَنِيهَا اللَّيْلَةَ كُنْتُ قَدْ أَسْقَطْتُهَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هَارُونُ النَّحْوِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ فِي سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ فِي الْحُرُوفِ وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ سورة آل عمران آية 146.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص رات کی نماز (تہجد) کے لیے اٹھا، اس نے قرآت کی، قرآت میں اپنی آواز بلند کی تو جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ فلاں شخص پر رحم فرمائے، کتنی ایسی آیتیں تھیں جنہیں میں بھول چلا تھا، اس نے انہیں آج رات مجھے یاد دلا دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہارون نحوی نے حماد بن سلمہ سے سورۃ آل عمران کے سلسلہ میں روایت کی ہے کہ اللہ فلاں پر رحم کرے کہ اس نے مجھے اس سورۃ کے بعض ایسے الفاظ یاد دلا دیے جنہیں میں بھول چکا تھا اور وہ «وكأين من نبي» (آل عمران: ۱۴۶) والی آیت ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1331]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 16877)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل 27 (5042)، والدعوات 19 (6335)، صحیح مسلم/المسافرین 33،(فضائل القرآن) (788) ویأتی ہذا الحدیث برقم (3970) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
ورواه البخاري (2655) ومسلم (788)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1332 سنن ابو داؤد
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُونَ بِالْقِرَاءَةِ فَكَشَفَ السِّتْرَ، وَقَالَ:" أَلَا إِنَّ كُلَّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ فَلَا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَلَا يَرْفَعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْقِرَاءَةِ، أَوْ قَالَ: فِي الصَّلَاةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف فرمایا، آپ نے لوگوں کو بلند آواز سے قرآت کرتے سنا تو پردہ ہٹایا اور فرمایا: لوگو! سنو، تم میں سے ہر ایک اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، تو کوئی کسی کو ایذا نہ پہنچائے اور نہ قرآت میں (یا کہا نماز) میں اپنی آواز کو دوسرے کی آواز سے بلند کرے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4425)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/94) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
مشكوة المصابيح (856)
صححه ابن خزيمة (1162 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1333 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے اعلانیہ طور سے خیرات کرنے والا اور آہستہ قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے چپکے سے خیرات کرنے والا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/فضائل القرآن 20 (2919)، سنن النسائی/قیام اللیل 22 (1662)، والزکاة 68 (2562)، (تحفة الأشراف: 9949)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/151، 158،201) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (2202)
إسماعيل بن عياش تابعه معاوية بن صالح عند النسائي (2562 وسنده حسن)
الحكم: صحيح