بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سواری پر نفل اور وتر پڑھنے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل باب: سواری پر نفل اور وتر پڑھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1224 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَيَّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ عَلَيْهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سواری پر نفل پڑھتے تھے، خواہ آپ کسی بھی طرف متوجہ ہوتے اور اسی پر وتر پڑھتے، البتہ اس پر فرض نماز نہیں پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 7 (1097)، صحیح مسلم/المسافرین 4 (700)، سنن النسائی/الصلاة 23 (491)، والمساجد 46 (740)، والقبلة 2 (745)، سنن الدارمی/الصلاة 213 (1631)، (تحفة الأشراف: 6978)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 228 (472)، سنن النسائی/قیام اللیل 31 (1687)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 127(1200)، موطا امام مالک/ قصر الصلاة 3 (15)، مسند احمد (2/57، 138) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس سے ثابت ہوا کہ فرض کے سوا نفلی نماز اور وتر بھی سواری پر ادا کی جا سکتی ہے، ان کے لئے قبلہ رخ ہونے کی شرط نہیں ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حالت سفر میں عام نفل پڑھ سکتے ہیں، اور وتر اور فجر کی سنت سفر اور حضر دونوں میں تاکیداً پڑھنی چاہئے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1098) صحيح مسلم (700)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1225 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، رِبْعِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَارُودِ ، عَمْرُو بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ ، الْجَارُودُ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجَارُودِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنِي الْجَارُودُ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا سَافَرَ فَأَرَادَ أَنْ يَتَطَوَّعَ اسْتَقْبَلَ بِنَاقَتِهِ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ صَلَّى حَيْثُ وَجَّهَهُ رِكَابُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سفر کرتے اور نفل پڑھنے کا ارادہ کرتے تو اپنی اونٹنی قبلہ رخ کر لیتے اور تکبیر کہتے پھر نماز پڑھتے رہتے خواہ آپ کی سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1225]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 512)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 10 (1100)، صحیح مسلم/المسافرین 4 (700)، سنن النسائی/المساجد 46 (742)، موطا امام مالک/ قصر الصلاة 7 (26)، مسند احمد (3/203) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1345)
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 1226 سنن ابو داؤد
الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا آپ کا رخ خیبر کی جانب تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1226]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/ المسافرین 4 (700)، سنن النسائی/الصلاة 23 (493)، (تحفة الأشراف: 7086)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 7 (25)، مسند احمد (2/7، 49، 52، 57، 75، 83، 128) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: خیبر مدینہ منورہ سے اتری سمت کا علاقہ ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (700)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1227 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، قَالَ: فَجِئْتُ وَهُوَ" يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، وَالسُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت سے بھیجا، میں (واپس) آیا تو دیکھا کہ آپ اپنی سواری پر مشرق کی جانب رخ کر کے نماز پڑھ رہے ہیں (آپ کا) سجدہ رکوع کی بہ نسبت زیادہ جھک کر ہوتا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1227]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 143 (351)، (تحفة الأشراف: 2750)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3 332، 379، 388) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی رکوع اور سجدہ دونوں اشارے سے کرتے اور دونوں میں جھکتے تھے، لیکن سجدہ میں رکوع سے زیادہ جھکتے تھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (540)
مشكوة المصابيح (1346)
الحكم: صحيح