بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مسافر کی نماز کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل باب: مسافر کی نماز کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1198 سنن ابو داؤد
الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ، رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ، وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سفر اور حضر دونوں میں دو دو رکعت نماز فرض کی گئی تھی، پھر سفر کی نماز (حسب معمول) برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1198]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 1 (350)، وتقصیر الصلاة 5 (1090)، فضائل الصحابة 76 (3720)، صحیح مسلم/المسافرین 1 (685)، سنن النسائی/الصلاة 3 (456)، (تحفة الأشراف: 1648)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 1 (9)، مسند احمد (6/234، 241، 265، 272)، سنن الدارمی/الصلاة 179(1550) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اضافہ صرف چار رکعت والی نماز ظہر، عصر اور عشاء میں کیا گیا، مغرب کی حیثیت دن کے وتر کی ہے، اور فجر میں لمبی قرات مسنون ہے اس لئے ان دونوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ بعض علماء کے نزدیک سفر میں قصر واجب ہے اور بعض کے نزدیک رخصت ہے چاہے تو پوری پڑھے اور چاہے تو قصر کرے مگر قصر افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (350) صحيح مسلم (685)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1199 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَمُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، خُشَيْشٌ يَعْنِي ابْنَ أَصْرَمَ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ. ح وحَدَّثَنَا خُشَيْشٌ يَعْنِي ابْنَ أَصْرَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَرَأَيْتَ إِقْصَارَ النَّاسِ الصَّلَاةَ، وَإِنَّمَا قَالَ تَعَالَى: إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101، فَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ الْيَوْمَ؟ فَقَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ" صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے بتائیے کہ (سفر میں) لوگوں کے نماز قصر کرنے کا کیا مسئلہ ہے اللہ تعالیٰ تو فرما رہا ہے: اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں مبتلا کر دیں گے، تو اب تو وہ دن گزر چکا ہے تو آپ نے کہا: جس بات پر تمہیں تعجب ہوا ہے اس پر مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر یہ صدقہ کیا ہے لہٰذا تم اس کے صدقے کو قبول کرو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1199]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 1 (686)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء 5 (3034)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة 1 (1434)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 73 (1065)، (تحفة الأشراف: 10659)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/25، 36)، سنن الدارمی/الصلاة 179 (1546) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: قصر نماز حالت خوف کے ساتھ خاص نہیں بلکہ امت کی آسانی کے لئے اسے سفر میں مشروع قرار دیا گیا خواہ سفر پر امن ہی کیوں نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (686)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1200 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ يُحَدِّثُ، فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ، وَحَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، كَمَا رَوَاهُ ابْنُ بَكْرٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی عمار کو بیان کرتے ہوئے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ابوعاصم اور حماد بن مسعدہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے اسے ابن بکر نے کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1200]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10659) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (1199)
الحكم: صحيح