بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عید میں عورتوں کے جانے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد ابواب: جمعہ المبارک کے احکام ومسائل باب: عید میں عورتوں کے جانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1136 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، وَيُونُسَ ، وَحَبِيبٍ ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ ، وَهِشَامٍ ، مُحَمَّدٍ ، أُمَّ عَطِيَّةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ، وَحَبِيبٍ، وَيَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ، وَهِشَامٍ فِي آخَرِينَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَ ذَوَاتِ الْخُدُورِ يَوْمَ الْعِيدِ" قِيلَ: فَالْحُيَّضُ؟ قَالَ:" لِيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ" قَالَ: فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لِإِحْدَاهُنَّ ثَوْبٌ كَيْفَ تَصْنَعُ؟ قَالَ:" تُلْبِسُهَا صَاحِبَتُهَا طَائِفَةً مِنْ ثَوْبِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم پردہ نشین عورتوں کو عید کے دن (عید گاہ) لے جائیں، آپ سے پوچھا گیا: حائضہ عورتوں کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خیر میں اور مسلمانوں کی دعا میں چاہیئے کہ وہ بھی حاضر رہیں، ایک خاتون نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کسی کے پاس کپڑا نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: اس کی سہیلی اپنے کپڑے کا کچھ حصہ اسے اڑھا لے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1136]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الحیض 23 (324)، والصلاة 2 (351)، والعیدین 15 (974)، 20 (980)، 21 (981)، والحج 81 (1652)، صحیح مسلم/العیدین 1 (890)، والجھاد 48 (1812)، سنن الترمذی/الصلاة 271 (539)، سنن النسائی/الحیض والاستحاضہ 22 (390)، والعیدین 2 (1559)، 3 (1560)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 165 (1308)، (تحفة الأشراف: (18095، 18101، 18110، 18112، 18114)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/84، 85)، سنن الدارمی/الصلاة 223 (1650) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (974) صحيح مسلم (890)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1137 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَمَّادٌ ، أَيَّوبُ ، مُحَمَّدٍ ، أُمِّ عَطِيَّةَ ، حَفْصَةَ ، امْرَأَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيَّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ:" وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ" وَلَمْ يَذْكُرْ: الثَّوْبَ، قَالَ: وَحَدَّثَ عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ امْرَأَة تُحَدِّثُهُ، عَنِ امْرَأَةٍ أُخْرَى، قَالَتْ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُوسَى فِي الثَّوْبِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: حائضہ عورتیں مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے علیحدہ رہیں، محمد بن عبید نے اپنی روایت میں کپڑے کا ذکر نہیں کیا ہے، وہ کہتے ہیں: حماد نے ایوب سے ایوب نے حفصہ سے، حفصہ نے ایک عورت سے اور اس عورت نے ایک دوسری عورت سے روایت کی ہے کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول!، پھر محمد بن عبید نے کپڑے کے سلسلے میں موسیٰ بن اسماعیل کے ہم معنیٰ حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18095) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (974) صحيح مسلم (890)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1138 سنن ابو داؤد
النُّفَيْلِيُّ ، زُهَيْرٌ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، أُمِّ عَطِيَّةَ
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ،عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَتْ: وَالْحُيَّضُ يَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ فَيُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس طریق سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ انہوں نے کہا: ہمیں حکم دیا جاتا تھا، پھر یہی حدیث بیان کی، پھر آگے اس میں ہے کہ: انہوں نے بتایا: حائضہ عورتیں لوگوں کے پیچھے ہوتی تھیں اور لوگوں کے ساتھ تکبیریں کہتی تھیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 1136، (تحفة الأشراف: 18095، 18114، 18128) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ عیدین میں عورتوں کو لے جانا سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (971) صحيح مسلم (890)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 1139 سنن ابو داؤد
أَبُو الْوَلِيدِ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ ، وَمُسْلِمٌ ، إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ ، أُمِّ عَطِيَّةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ، وَمُسْلِمٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّ" وَأَمَرَنَا بِالْعِيدَيْنِ أَنْ نُخْرِجَ فِيهِمَا الْحُيَّضَ وَالْعُتَّقَ، وَلَا جُمُعَةَ عَلَيْنَا، وَنَهَانَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے انصار کی عورتوں کو ایک گھر میں جمع کیا اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ہمارے پاس بھیجا تو وہ (آ کر) دروازے پر کھڑے ہوئے اور ہم عورتوں کو سلام کیا، ہم نے ان کے سلام کا جواب دیا، پھر انہوں نے کہا: میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم عیدین میں حائضہ عورتوں اور کنواری لڑکیوں کو لے جائیں اور یہ کہ ہم عورتوں پر جمعہ نہیں ہے، نیز آپ نے ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1139]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10680)، وقد أخرجہ: (5/85، 6/408) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (1722 وسنده حسن)
الحكم: ضعيف