مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ ، قَتَادَةَ ، قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِرْهَمٍ، أَوْ نِصْفِ دِرْهَمٍ، أَوْ صَاعِ حِنْطَةٍ، أَوْ نِصْفِ صَاعٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ هَكَذَا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" مُدًّا أَوْ نِصْفَ مُدٍّ"، وَقَالَ: عَنْ سَمُرَةَ: قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُسْأَلُ عَنِ اخْتِلَافِ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَمَّامٌ عِنْدِي أَحْفَظُ مِنْ أَيُّوبَ يَعْنِي أَبَا الْعَلَاءِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قدامہ بن وبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے بغیر عذر کے جمعہ چھوٹ جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ ایک درہم یا نصف درہم یا ایک صاع گیہوں یا نصف صاع گیہوں صدقہ دے ۱؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن بشیر نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر انہوں نے اپنی روایت میں مد یا نصف مد کہا ہے نیز «عن سمرة» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے سنا ان سے اس حدیث کے اختلاف کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میرے نزدیک ہمام ایوب ابو العلاء سے زیادہ حفظ میں قوی ہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4631، 19231) (ضعیف) (قدامہ مجہول ہیں، نیز سند میں ان کے درمیان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان دو آدمیوں کا انقطاع ہے)»
وضاحت
۱؎: صاع ڈھائی کلو گرام کا، درھم: چاندی کا سکہ تین گرام کے سے کچھ کم (۹۷۵,۲)۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1053)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49
الحكم: ضعيف