يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَبَا مَعْبَدٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ،أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنّ" رَفْعَ الصَّوْتِ لِلذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ، كَانَ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، وَأَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ وَأَسْمَعُهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ذکر کے لیے آواز اس وقت بلند کی جاتی تھی جب لوگ فرض نماز سے سلام پھیر کر پلٹتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں یہی دستور تھا، ابن عباس کہتے ہیں: جب لوگ نماز سے پلٹتے تو مجھے اسی سے اس کا علم ہوتا اور میں اسے سنتا تھا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1003]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 155 (841)، صحیح مسلم/المساجد 23 (583)، (تحفة الأشراف: 6513)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/367) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (482) صحيح مسلم (583)
الحكم: صحيح