مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، يَحْيَى الْكَاهِلِيِّ ، الْمُسَوَّرِ بْنِ يَزِيدَ الْأَسَدِيِّ الْمَالِكِيِّ ، سُلَيْمَانُ ، يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْأَزْدِيُّ ، الْمُسَوَّرُ بْنُ يَزِيدَ الْأَسَدِيُّ الْمَالِكِيُّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى الْكَاهِلِيِّ، عَنْ الْمُسَوَّرِ بْنِ يَزِيدَ الْأَسَدِيِّ الْمَالِكِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَحْيَى، وَرُبَّمَا قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَرَكَ شَيْئًا لَمْ يَقْرَأْهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلَّا أَذْكَرْتَنِيهَا". قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: كُنْتُ أُرَاهَا نُسِخَتْ. وقَالَ سُلَيْمَانُ: قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُسَوَّرُ بْنُ يَزِيدَ الْأَسَدِيُّ الْمَالِكِيُّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مسور بن یزید مالکی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز میں قرآت کر رہے تھے، (یحییٰ کی روایت میں ہے کبھی مسور نے یوں کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں قرآت کر رہے تھے) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ آیتیں چھوڑ دیں، انہیں نہیں پڑھا (نماز کے بعد) ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں آیتیں چھوڑ دی ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے یاد کیوں نہیں دلایا؟“۔ سلیمان نے اپنی روایت میں کہا کہ: میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ منسوخ ہو گئی ہیں -سلیمان کی روایت میں ہے کہ مجھ سے یحییٰ بن کثیر ازدی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے مسور بن یزید اسدی مالکی نے بیان کیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھی، اس میں قرآت کی تو آپ کو شبہ ہو گیا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟“، ابی نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں (لقمہ دینے سے) کس چیز نے روک دیا؟“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 907]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6766، 11280)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/74) (حسن)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
حديث أول: فيه يحيي بن كثير الكاھلي وثقه ابن حبان والجمھور وحديثه لا ينزل عن درجة الحسن، وحديث الثاني: أعله الإمام أبو حاتم في علل الحديث (1/77، 78) بعلة غير قادحة والله أعلم
الحكم: حسن