بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: آدمی جب امام کو سجدہ کی حالت میں پائے تو کیسے کرے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل باب: آدمی جب امام کو سجدہ کی حالت میں پائے تو کیسے کرے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 893 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ ، نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، زَيْدِ بْنِ أَبِي الْعَتَّابِ ، وَابْنِ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَهُمْ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي الْعَتَّابِ، وَابْنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جِئْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَنَحْنُ سُجُودٌ فَاسْجُدُوا وَلَا تَعُدُّوهَا شَيْئًا، وَمَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز میں آؤ اور ہم سجدہ میں ہوں تو تم بھی سجدہ میں چلے جاؤ اور تم اسے کچھ شمار نہ کرو، اور جس نے رکعت پالی تو اس نے نماز پالی۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو اود، (تحفة الأشراف: 12908)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 29 (580)، صحیح مسلم/المساجد 30 (607)، سنن النسائی/المواقیت 29 (554)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 91 (1123)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 3(15)، مسند احمد (2/241، 265، 271، 280، 375، 376)، سنن الدارمی/الصلاة 22 (1256) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کو ابن خزیمہ (1622) نے اپنی صحیح میں تخریج کیا ہے، حاکم نے اسے صحیح الاسناد کہا ہے، ان کی موافقت ذھبی نے کی ہے (1؍ 216) لیکن اس کے راوی یحییٰ بن ابی سلیمان لیَّن الحدیث ہیں، ابن حبان اور حاکم کی توثیق کافی نہیں ہے، لیکن حدیث مرفوع اور موقوف شواہد کی بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: (صحیح ابی داود 4؍ 47۔ 48)، نیز حدیث کا دوسرا ٹکڑا «‏‏‏‏ومن ادرك الخ» ‏‏‏‏ صحیح ومتفق علیہ ہے)
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
ضعيف
يحيي بن أبي سليمان ضعفه الجمهور وقال في التقريب (7565) : ’’ لين الحديث ‘‘ وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 45
الحكم: حسن