بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نماز شروع کرنے کے وقت (تکبیر تحریمہ کے بعد) سکتہ کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل باب: نماز شروع کرنے کے وقت (تکبیر تحریمہ کے بعد) سکتہ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 777 سنن ابو داؤد
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةُ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ سَمُرَةُ" حَفِظْتُ سَكْتَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ: سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ حَتَّى يَقْرَأَ، وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ عِنْدَ الرُّكُوعِ"، قَالَ: فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ: فَكَتَبُوا فِي ذَلِكَ إِلَى الْمَدِينَةِ إِلَى أُبَيٍّ، فَصَدَّقَ سَمُرَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا قَالَ حُمَيْدٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نماز میں دو سکتے یاد ہیں: ایک امام کے تکبیر تحریمہ کہنے سے، قرأت شروع کرنے اور دوسرا جب فاتحہ اور سورت کی قرأت سے فارغ ہو کر رکوع میں جانے کے قریب ہوا، اس پر عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا، تو لوگوں نے اس سلسلے میں مدینہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، تو انہوں نے سمرہ کی تصدیق کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حمید نے بھی اس حدیث میں اسی طرح کہا ہے کہ دوسرا سکتہ اس وقت کرتے جب آپ قرآت سے فارغ ہوتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 777]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 74 (251)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 12 (845)، (تحفة الأشراف: 4609)، مسند احمد (5/11، 21، 23) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (حسن بصری نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے عقیقہ کی حدیث کے سوا اور کوئی حدیث نہیں سنی ہے، نیز وہ مدلس ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (845) الحسن البصري عن سمرة بن جندب كتاب، والرواية عن كتاب صحيحة
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 778 سنن ابو داؤد
أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، أَشْعَثَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ،عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَسْكُتُ سَكْتَتَيْنِ إِذَا اسْتَفْتَحَ وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ كُلِّهَا، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو سکتے کرتے: ایک جب نماز شروع کرتے اور دوسرا جب قرآت سے پورے طور سے فارغ ہو جاتے، پھر راوی نے یونس کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 778]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4576)، مسند احمد (5/15، 20، 21، 22) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (گذشتہ حدیث ملاحظہ فرمائیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (777)
حَدَّثَناأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 779 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، يَزِيدُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ، وَعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ تَذَاكَرَا، فَحَدَّثَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ" أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَيْنِ: سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7"، فَحَفِظَ ذَلِكَ سَمُرَةُ وَأَنْكَرَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، فَكَتَبَا فِي ذَلِكَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَكَانَ فِي كِتَابِهِ إِلَيْهِمَا أَوْ فِي رَدِّهِ عَلَيْهِمَا: أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حسن سے روایت ہے کہ سمرہ بن جندب اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے آپس میں (سکتہ کا) ذکر کیا تو سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دو سکتے یاد رکھے ہیں: ایک سکتہ اس وقت جب آپ تکبیر تحریمہ کہتے اور دوسرا سکتہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» ۱؎ کی قرآت سے فارغ ہوتے، ان دونوں سکتوں کو سمرہ نے یاد رکھا، لیکن عمران بن حصین نے اس کا انکار کیا تو دونوں نے اس کے متعلق ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو انہوں نے ان دونوں کے خط کے جواب میں لکھا کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے (ٹھیک) یاد رکھا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 779]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (777)، (تحفة الأشراف: 4589، 4609) (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: سورة الفاتحة: (۷)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
والحديث السابق (الأصل : 778) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 780 سنن ابو داؤد
ابْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ بِهَذَا، قَالَ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ:" سَكْتَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِيهِ: قَالَ سَعِيدٌ: قُلْنَا لِقَتَادَةَ: مَا هَاتَانِ السَّكْتَتَانِ؟ قَالَ: إِذَا دَخَلَ فِي صَلَاتِهِ وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دو سکتے یاد رکھے ہیں، سعید کہتے ہیں: ہم نے قتادہ سے پوچھا: یہ دو سکتے کون کون سے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز میں داخل ہوتے اور جب آپ قرآت سے فارغ ہوتے، پھر اس کے بعد انہوں نے یہ بھی کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہہ لیتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 780]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (777)، (تحفة الأشراف: 4589، 4609) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (گذشتہ حدیث ملاحظہ فرمائیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
و الحديث السابق (الأصل : 777) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 781 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةَ ، أَبُو كَامِلٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عُمَارَةَ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ عُمَارَةَ، الْمَعْنَى عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، أَخْبِرْنِي مَا تَقُولُ، قَالَ: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ أَنْقِنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الْأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز کے لیے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہتے تو تکبیر تحریمہ اور قرآت کے درمیان (تھوڑی دیر) خاموش رہتے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، تکبیر تحریمہ اور قرآت کے درمیان آپ جو سکتہ کرتے ہیں، مجھے بتائیے آپ اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «اللهم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم أنقني من خطاياى كالثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني بالثلج والماء والبرد» اے اللہ! جس طرح تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری رکھی ہے اسی طرح میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری فرما دے، اے اللہ! تو مجھے گناہوں سے اسی طرح پاک و صاف کر دے جیسے سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! تو میرے گناہوں کو برف پانی اور اولوں سے دھو دے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 781]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 89 (744)، صحیح مسلم/المساجد 27 (598)، سنن النسائی/الافتتاح 15 (896)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 1 (805)، (تحفة الأشراف: 14896)، مسند احمد (2/231، 448، 494)، سنن الدارمی/الصلاة 36 (1280) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (744) صحيح مسلم (598)
الحكم: صحيح