بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نمازی کے آگے سے عورت کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی، اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد ابواب: ان چیزوں کی تفصیل، جن سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور جن سے نہیں ٹوٹتی باب: نمازی کے آگے سے عورت کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی، اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 710 سنن ابو داؤد
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، قَالَ شُعْبَةُ: أَحْسَبُهَا قَالَتْ: وَأَنَا حَائِضٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ وَعَطَاءٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، وَهِشَامُ، كلهم عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ وَإِبْرَاهِيمُ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبُو الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، لَمْ يَذْكُرُوا: وَأَنَا حَائِضٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اور قبلہ کے بیچ میں ہوتی تھی، شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا: اور میں حائضہ ہوتی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زہری، عطاء، ابوبکر بن حفص، ہشام بن عروہ، عراک بن مالک، ابواسود اور تمیم بن سلمہ سبھوں نے عروہ سے، عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، اور ابراہیم نے اسود سے، اسود نے عائشہ سے، اور ابوالضحیٰ نے مسروق سے، مسروق نے عائشہ سے، اور قاسم بن محمد اور ابوسلمہ نے عائشہ سے روایت کیا ہے، البتہ ان لوگوں نے «وأنا حائض» اور میں حائضہ ہوتی تھی کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 710]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16342)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 19 (382)، 21 (383)، 103 (512)، 104 (513)، والوتر 3 (997)، والعمل في الصلاة 10 (1209)، صحیح مسلم/الصلاة 51 (512)، والمسافرین 17 (135)، سنن النسائی/القبلة 10 (760)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 40 (956)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 1(2)، سنن الدارمی/الصلاة 127 (1453)، مسند احمد (6/94، 98، 176) (صحیح) دون قولہ: وأنا حائض» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح دون قوله وأنا حائض
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح، صحيح بخاري (383) صحيح مسلم (512)
الحكم: صحيح دون قوله وأنا حائض
حدیث نمبر: 711 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ رَاقِدَةٌ عَلَى الْفِرَاشِ الَّذِي يَرْقُدُ عَلَيْهِ، حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَهَا فَأَوْتَرَتْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی رات کی نماز پڑھتے اور وہ آپ کے اور قبلے کے بیچ میں اس بچھونے پر لیٹی رہتیں جس پر آپ سوتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو انہیں جگاتے تو وہ بھی وتر پڑھتیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 711]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16902، 16333) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (512) صحيح مسلم (512)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 712 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، الْقَاسِمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْحِمَارِ وَالْكَلْبِ،" لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلِي فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ ثُمَّ يَسْجُدُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ تم لوگوں نے بہت برا کیا کہ ہم عورتوں کو گدھے اور کتے کے برابر ٹھہرا دیا، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے عرض میں لیٹی رہتی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو میرا پاؤں دبا دیتے، میں اسے سمیٹ لیتی پھر آپ سجدہ کرتے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 712]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17537) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (519)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 713 سنن ابو داؤد
عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ ، الْمُعْتَمِرُ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَبِي النَّضْرِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كُنْتُ أَكُونُ نَائِمَةً وَرِجْلَايَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ ضَرَبَ رِجْلَيَّ فَقَبَضْتُهُمَا فَسَجَدَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سوئی رہتی تھی، میرے دونوں پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ہوتے اور آپ رات میں نماز پڑھ رہے ہوتے، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدہ کرنا چاہتے تو میرے دونوں پاؤں کو مارتے تو میں انہیں سمیٹ لیتی پھر آپ سجدہ کرتے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 713]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 19 (382)، العمل فی الصلاة 10 (1209)، صحیح مسلم/الصلاة 51 (512)، سنن النسائی/القبلة 10 (760)، (تحفة الأشراف: 17712)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/148، 225) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (382) صحيح مسلم (512)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 714 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، الْقَعْنَبِيُّ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ. ح قَالَ أَبُو دَاوُد، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كُنْتُ أَنَامُ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ فِي قِبْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَمَامَهُ، إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ، زَادَ عُثْمَانُ: غَمَزَنِي ثُمَّ اتَّفَقَا، فَقَالَ: تَنَحَّيْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سمت میں لیٹی رہتی، آپ نماز پڑھتے اور میں آپ کے آگے ہوتی، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وتر پڑھنا چاہتے (عثمان کی روایت میں یہ اضافہ ہے: تو آپ مجھے اشارہ کرتے، پھر عثمان اور قعنبی دونوں روایت میں متفق ہیں) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے: سرک جاؤ۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 714]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17754)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/182) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
محمد بن عمرو بن علقمة الليثي وثقه الجمھور وانظر مسند الحميدي بتحقيقي (178)
الحكم: حسن صحيح