بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جوتے پہن کر نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: جوتے پہن کر نماز پڑھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 648 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، ابْنِ سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي يَوْمَ الْفَتْحِ وَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ اپنے دونوں جوتوں کو اپنے بائیں جانب رکھے ہوئے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الافتتاح 76 (1008)، والقبلة 25 (777)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 205 (1431)، (تحفة الأشراف: 5314)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/411) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 649 سنن ابو داؤد
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَأَبُو عَاصِمٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُسَيِّبِ الْعَابِدِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَبُو عَاصِمٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، يَقُولُ:أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُسَيِّبِ الْعَابِدِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمَكَّةَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ، حَتَّى إِذَا جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى، وَهَارُونَ، أَوْ ذِكْرُ مُوسَى، وَعِيسَى، ابْنُ عَبَّادٍ يَشُكُّ أَوِ اخْتَلَفُوا، أَخَذَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ فَحَذَفَ فَرَكَعَ"، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ حَاضِرٌ لِذَلِكَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں مکہ میں صبح کی نماز پڑھائی، آپ نے سورۃ مؤمنون کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم موسیٰ ۱؎ اور ہارون علیہما السلام، یا موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کے قصے پر پہنچے (راوی حدیث ابن عباد کو شک ہے یا رواۃ کا اس میں اختلاف ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھانسی آ گئی، آپ نے قرآت چھوڑ دی اور رکوع میں چلے گئے، عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ (سابقہ حدیث کے راوی) اس وقت وہاں موجود تھے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 106(774تعلیقاً)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (455)، سنن النسائی/الافتتاح 76 (1008)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 5 (820)، (تحفة الأشراف: 5313)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/411) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: موسیٰ و ہارون علیہما السلام کا ذکر: «ثم أرسلنا موسى وأخاه هارون بآياتنا وسلطان مبين» (سورۃ المومنون: ۴۵) میں ہے، اور عیسی کا ذکر اس سے چار آیتوں کے بعد: «وجعلنا ابن مريم وأمه آية وآويناهما إلى ربوة ذات قرار ومعين» (سورۃ المؤمنون: ۵۰) میں ہے۔
۲؎: اس سے پہلے والی حدیث کی مناسبت باب سے ظاہر ہے اور یہ حدیث اسی حدیث کی مناسبت سے یہاں نقل کی گئی ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (455)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 650 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: مَا حَمَلَكُمْ عَلَى إِلْقَاءِ نِعَالِكُمْ؟ قَالُوا: رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السلام أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا، أَوْ قَالَ: أَذًى، وَقَالَ: إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْيَنْظُرْ، فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ قَذَرًا أَوْ أَذًى فَلْيَمْسَحْهُ وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک آپ نے اپنے جوتوں کو اتار کر انہیں اپنے بائیں جانب رکھ لیا، جب لوگوں نے یہ دیکھا تو (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اتباع میں) انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار لیے؟، ان لوگوں نے کہا: ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ کے جوتوں میں نجاست لگی ہوئی ہے۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے: «قذرا» کہا، یا: «أذى» کہا، اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتے دیکھ لے اگر ان میں نجاست لگی ہوئی نظر آئے تو اسے زمین پر رگڑ دے اور ان میں نماز پڑھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 650]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4362)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/20، 92)، سنن الدارمی/الصلاة 103 (1418)، (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (766)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 651 سنن ابو داؤد
مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ ، بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، قَالَ: فِيهِمَا خَبَثٌ، قَالَ: فِي الْمَوْضِعَيْنِ خَبَثًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بکر بن عبداللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی حدیث (مرسلاً) روایت کی ہے، اس میں لفظ: «فيهما خبث» ہے، اور دونوں جگہ «خبث» ہی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 4362) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل
و الحديث السابق (الأصل : 650) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 652 سنن ابو داؤد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، هِلَالِ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيِّ ، يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ هِلَالِ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيِّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَالِفُوا الْيَهُودَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ فِي نِعَالِهِمْ وَلَا خِفَافِهِمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہود کی مخالفت کرو، کیونکہ نہ وہ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے ہیں اور نہ اپنے موزوں میں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 652]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4830) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
جوتے پہن کر یا اتار کر نماز پڑھنا دونوں طرح جائز ہے۔ اگر جوتے پہنے ہوں تو ان کا پاک ہونا شرط ہے۔ جوتوں میں نماز احادیث کی روشنی میں ایک درست عمل ہے۔ اس کا ثواب کی کمی بیشی سے کوئی تعلق نہیں۔ اہل کتاب اور مشرکین کی مخالفت ان امور مین ہے، جن کی شریعت اسلامیہ نے صراحت کی ہے یا ان کی خاص مذہبی یا قومی علامت ہے۔ ہمارے ہاں مذکورہ مسئلہ اور اس قسم کے بعض دیگر مسائل متروک ہو گئے ہیں۔ ان سنتوں کے احیاء کے لیے پہلے «ادع إلىٰ سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة» (سورۃ النحل، آیت ۱۲۵) کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کی سنت سے محبت کا داعیہ پیدا کرنا ضروری ہے، تاکہ بے علم لوگ دین سے اور علمائے حق سے متنفر نہ ہوں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (765)
مروان بن معاوية الفزاري صرح بالسماع عند ابن حبان (357)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 653 سنن ابو داؤد
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ ننگے پاؤں نماز پڑھتے اور جوتے پہن کر بھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 653]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 66 (1038)، (تحفة الأشراف: 8686)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/174) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
جوتے پہن کر یا اتار کر نماز پڑھنا دونوں طرح جائز ہے۔ اگر جوتے پہنے ہوں تو ان کا پاک ہونا شرط ہے۔ جوتوں میں نماز احادیث کی روشنی میں ایک درست عمل ہے۔ اس کا ثواب کی کمی بیشی سے کوئی تعلق نہیں ہے، جیسے کہ مسواک وغیرہ میں ثابت ہے۔ ہمارے ہاں مذکورہ مسئلہ اور اس قسم کے بعض دیگر مسائل متروک ہو گئے ہیں۔ ان سنتوں کے احیاء کے لیے پہلے «ادع إلىٰ سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة» (سورۃ النحل، آیت ۱۲۵) کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کی سنت سے محبت کا داعیہ پیدا کرنا ضروری ہے، تاکہ بے علم لوگ دین سے اور علمائے حق سے متنفر نہ ہوں۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (769)
ورواه أحمد بن جعفر بن حمدان القطيعي في جزء الألف دينار (144) عن الفضل بن حباب عن مسلم بن إبراھيم به بلفظ: ’’رأيت رسول اللهصلى الله عليه و آله وسلم يصلي منتعلًا ويشرب قائمًا وقاعدًا ويصوم في السفر ويفطر وينصرف في الصلاة عن يمينه وشماله‘‘
الحكم: حسن صحيح