بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 639 سنن ابو داؤد
الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ قُنْفُذٍ ، أُمِّهِ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ قُنْفُذٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ: مَاذَا تُصَلِّي فِيهِ الْمَرْأَةُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَتْ:"تُصَلِّي فِي الْخِمَارِ وَالدِّرْعِ السَّابِغِ الَّذِي يُغَيِّبُ ظُهُورَ قَدَمَيْهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام حرام والدہ محمد بن زید سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے؟ تو انہوں نے کہا: وہ اوڑھنی اور ایک ایسے لمبے کرتے میں نماز پڑھے جو اس کے دونوں قدموں کے اوپری حصہ کو چھپا لے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 639]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 18291)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة 10(36) (ضعیف موقوف)» ‏‏‏‏ (محمد بن زید بن قنفذ کی ماں أم حرام مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف موقوف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
أم محمد بن زيد اختلف قول الذهبي فيھا ووثقھا الحاكم وحده فھي مجھولة الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
الحكم: ضعيف موقوف
حدیث نمبر: 640 سنن ابو داؤد
مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ:عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ؟ قَالَ: إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا يُغَطِّي ظُهُورَ قَدَمَيْهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَبَكْرُ بْنُ مُضَرَ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَابْنُ إِسْحَاقَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَصَرُوا بِهِ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: کیا عورت کرتہ اور اوڑھنی میں جب کہ وہ ازار (تہبند) نہ پہنے ہو، نماز پڑھ سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (پڑھ سکتی ہے) جب کرتہ اتنا لمبا ہو کہ اس کے دونوں قدموں کے اوپری حصہ کو ڈھانپ لے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو مالک بن انس، بکر بن مضر، حفص بن غیاث، اسماعیل بن جعفر، ابن ابی ذئب اور ابن اسحاق نے محمد بن زید سے، محمد بن زید نے اپنی والدہ سے، اور محمد بن زید کی والدہ نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، لیکن ان میں سے کسی نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے، بلکہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا پر ہی اسے موقوف کر دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 640]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 18291) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (مذکورہ سبب سے یہ مرفوع حدیث بھی ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
أم محمد مجهولة الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
الحكم: ضعيف