بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: آدمی گردن کے پیچھے کپڑے باندھ کر نماز پڑھے تو کیسا ہے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: آدمی گردن کے پیچھے کپڑے باندھ کر نماز پڑھے تو کیسا ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 630 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ عَاقِدِي أُزُرِهِمْ فِي أَعْنَاقِهِمْ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ كَأَمْثَالِ الصِّبْيَانِ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے اپنے تہبند تنگ ہونے کی وجہ سے گردنوں پر بچوں کی طرح باندھے ہوئے ہیں، تو ایک کہنے والے نے کہا: اے عورتوں کی جماعت! تم اپنے سر اس وقت تک نہ اٹھانا جب تک مرد نہ اٹھا لیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 6 (362)، والأذان 136 (814)، والعمل في الصلاة 14 (1215)، صحیح مسلم/الصلاة 29 (441)، سنن النسائی/القبلة 16 (767)، (تحفة الأشراف: 4681)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/331) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (362) صحيح مسلم (441)
الحكم: صحيح