بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: امام سے پہلے سر اٹھانے یا رکھنے پر وارد وعید کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: امام سے پہلے سر اٹھانے یا رکھنے پر وارد وعید کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 623 سنن ابو داؤد
حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا يَخْشَى أَوْ أَلَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ أَوْ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص (امام سے پہلے) اپنا سر اٹھاتا ہے جبکہ وہ امام سجدے میں ہو، اسے ڈرنا چاہیئے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے کے سر جیسا نہ بنا دے یا اس کی شکل گدھے کی شکل نہ بنا دے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 53 (691)، صحیح مسلم/الصلاة 25 (427)، (تحفة الأشراف: 14380)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 292 (582)، سنن النسائی/الإمامة 38 (829)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 41 (961)، مسند احمد (2/260، 271، 425، 454، 456، 469، 472، 504)، سنن الدارمی/الصلاة 72 (1355) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
نماز کے اہم واجبات سے غافل نہیں رہنا چاہیے، انسان کو چاہیے کہ علم حاصل کرئے تاکہ تمام ارکان سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مطابق ادا ہوں، جن چیزوں سے روکا گیا ہے اس سے رک جائیں اور جن چیزوں کا حکم ہے اس پر عمل کریں۔ اسی معنی میں یہ وعید سنائی گئی ہے لہذا مقتدی کو ہر حال میں اپنے امام سے پیچھے رہنا واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (427)
الحكم: صحيح