بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سلام پھیرنے کے بعد امام کے (مقتدیوں کی طرف) مڑنے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: سلام پھیرنے کے بعد امام کے (مقتدیوں کی طرف) مڑنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 614 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا انْصَرَفَ انْحَرَفَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یزید بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو (نمازیوں کی طرف) مڑ گئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 51 (219)، الإمامة 54 (857)، (تحفة الأشراف: 11823)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/275، 279) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 615 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، مِسْعَرٌ ، ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدِ بْنِ الْبَرَاءِ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ، فَيُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہماری یہ خواہش ہوتی کہ ہم آپ کی داہنی طرف رہیں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (سلام پھیرنے کے بعد) اپنا رخ ہماری طرف کر لیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 8 (709)، سنن النسائی/الإمامة 34 (823)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 55 (1006)، (تحفة الأشراف: 1789)، وقد أخرجہ: (4/290، 304) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زیادہ تر داہنی طرف مڑتے تھے، اس لئے لوگ آپ کے دائیں رہنا پسند کرتے تھے، بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بائیں طرف بھی مڑتے تھے۔ سلام کے بعد امام کا حالت تشہد سے پھر کر مقتدیوں کی طرف رخ کر کے بیٹھنا مسنون ہے۔ اور اس طرح بیٹھے کہ دائیں جانب والوں کی طرف رخ قدرے زیادہ ہو اور بائیں طرف والے بھی اچھی طرح اس کی نظر میں ہوں۔ اس طرح بیٹھنا کہ بائیں جانب والوں کی طرف پشت ہو جائے صحیح نہیں ہے۔ اور مذکورہ عمل دائمی نہیں ہونا چاہیے بلکہ کبھی کبھی رخ بائیں جانب بھی ہونا چاہیے۔ (تفصیل آئندہ کی احادیث میں ان شاء اللہ آئے گی)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (709)
الحكم: صحيح