عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، هَارُونَ بْنِ عنترة ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عنترة، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَلْقَمَةُ، وَالْأَسْوَدُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَقَدْ كُنَّا أَطَلْنَا الْقُعُودَ عَلَى بَابِهِ، فَخَرَجَتِ الْجَارِيَةُ فَاسْتَأْذَنَتْ لَهُمَا فَأَذِنَ لَهُمَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بَيْنِي وَبَيْنَهُ، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسود بن یزید نخعی سے روایت ہے کہ میں نے اور علقمہ بن قیس نخعی نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی اور ہم دیر تک آپ کے دروازے پر بیٹھے تھے، تو لونڈی نکلی اور اس نے جا کر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہمارے لیے اجازت مانگی، آپ نے ہم کو اجازت دی (اور ہم اندر گئے) پھر ابن مسعود میرے اور علقمہ کے درمیان میں کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/المساجد 27 (720)، والإمامة 18 (800)، والتطبیق 1 (1030)، (تحفة الأشراف: 9173)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 5 (1191)، مسند احمد (1/424، 451، 455، 459) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جب تین آدمی جماعت سے نماز پڑھ رہے ہوں تو امام آگے کھڑا ہو گا، اور دونوں مقتدی اس کے پیچھے کھڑے ہوں گے، اور یہ حکم کہ تین آدمی ہوں تو امام ان کے درمیان کھڑا ہو منسوخ ہے، ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے آگے بڑھنے کے بجائے درمیان میں کھڑے ہوئے تھے (دیکھئے عون المعبود،حدیث مذکور)۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح