أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، ابْنِ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، بُكَيْرٍ ، عَفِيفَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْمُسَيِّبِ ، رَجُلٌ ، أَبُو أَيُّوبَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَفِيفَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ:حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، فَقَالَ: يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِهِ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ، فَأُصَلِّي مَعَهُمْ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ذَلِكَ لَهُ سَهْمُ جَمْعٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عفیف بن عمرو بن مسیب کہتے ہیں کہ مجھ سے قبیلہ بنی اسد بن خزیمہ کے ایک شخص نے بیان کیا کہ انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ ہم میں سے ایک شخص اپنے گھر پر نماز پڑھ لیتا ہے، پھر مسجد آتا ہے، وہاں نماز کھڑی ہوتی ہے، تو میں ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر اس سے میں اپنے دل میں شبہ پاتا ہوں، اس پر ابوایوب انصاری نے کہا: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے مال غنیمت کا ایک حصہ ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 578]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3501)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة 3(11) (ضعیف)» (اس کے راوی عفیف لین الحدیث ہیں اور رجل مبہم ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
رجل من بني أسد: مجهول لم يسم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34
الحكم: ضعيف