بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مسجد میں دو مرتبہ جماعت کرنے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: مسجد میں دو مرتبہ جماعت کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 574 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وُهَيْبٌ ، سُلَيْمَانَ الْأَسْوَدِ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي وَحْدَهُ، فَقَالَ:" أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کو اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: کیا کوئی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے، یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 50 (220)، (تحفة الأشراف: 4256)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/64، 85)، سنن الدارمی/الصلاة 98 (1408) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
جامع ترمذی میں درج ذیل حدیث کا عنوان ہے: جس مسجد میں ایک بار (باجماعت) نماز ہو چکی ہو اس میں جماعت کا بیان۔ درج ذیل صحیح حدیث سے دوسری جماعت کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے (ابن ابی شیبہ)۔ اکیلے نماز پڑھنے والے کو اپنا امام بنا لینا جائز ہے۔ اگرچہ دوسرے نے اپنی نماز پڑھ لی ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1146)
صححه ابن خزيمة (1632 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح