بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کے حکم کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کے حکم کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 536 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، سُفْيَانُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَبِي الشَّعْثَاءِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ رَجُلٌ حِينَ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِلْعَصْرِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں تھے کہ ایک شخص مؤذن کے عصر کی اذان دینے کے بعد نکل کر (مسجد سے باہر) گیا تو آپ نے کہا: اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کنیت ہے) کی نافرمانی کی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 536]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 45 (655)، سنن الترمذی/الصلاة 36 (204)، سنن النسائی/الأذان 40 (685)، سنن ابن ماجہ/الأذان 7 (733)، (تحفة الأشراف: 13477)، مسند احمد (2/410، 416، 417، 506، 537)، سنن الدارمی/الصلاة 12 (1241) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
اذان ہو جانے کے بعد معقول شرعی وجہ کے بغیر مسجد سے نکلنا جائز نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (655)
الحكم: صحيح