بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: نماز کے احکام و مسائل باب: مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 474 سنن ابو داؤد
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ ، وَشُعْبَةُ ، وَأَبَانُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَشُعْبَةُ، وَأَبَانُ،، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ، وَكَفَّارَتُهُ أَنْ تُوَارِيَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ تم اسے (مٹی) میں چھپا دو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏حدیث مسلم بن إبراہیم عن ہشام وأبان تفرد بہ أبو داود، تحفة (1137، 1383)، وحدیث مسلم بن إبراہیم عن شعبة، صحیح البخاری/الصلاة 37 (415)، صحیح مسلم/المساجد 13 (552)، (تحفة الأشراف: 1251)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجمعة 49 (572)، سنن النسائی/المساجد 30 (724)، مسند احمد (3/173، 232، 274، 277)، سنن الدارمی/الصلاة 116 (1435) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: جن مسجدوں کا فرش خام اور غیر پختہ ہوتا ہے وہاں تو یہ ممکن ہے کہ تھوک کر اسے مٹی میں دبا دیں، مگر جن مسجدوں کا فرش پختہ ہو وہاں تھوکنا بالکل منع ہے، اگر تھوکنے کی ضرورت آ ہی پڑے تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ دستی یا ٹیشو پیپر میں تھوک کر جیب میں رکھ لے تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے اور نہ مسجد گندی ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح، صحيح بخاري (415) صحيح مسلم (552)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 475 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس پر مٹی ڈال دو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 37 (552)، سنن الترمذی/الجمعة 49 (572)، سنن النسائی/المساجد 30 (724)، (تحفة الأشراف: 1428) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (552)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 476 سنن ابو داؤد
أَبُو كَامِلٍ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں حلق سے بلغم نکال کر ڈالنا ...، پھر راوی نے اوپر والی حدیث کے مثل ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 476]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1211)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/109، 209، 234) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
ورواه شعبة عن قتادة به انظر مسند أحمد (3/277 ح 1394) والحديث السابق (475) شاھد له
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 477 سنن ابو داؤد
الْقَعْنَبِيُّ ، أَبُو مَوْدُودٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ دَخَلَ هَذَا الْمَسْجِدَ فَبَزَقَ فِيهِ أَوْ تَنَخَّمَ، فَلْيَحْفِرْ فَلْيَدْفِنْهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، فَلْيَبْزُقْ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ لِيَخْرُجْ بِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس مسجد میں داخل ہو اور اس میں تھوکے یا بلغم نکالے تو اسے مٹی کھود کر دفن کر دینا چاہیئے، اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو اپنے کپڑے میں تھوک لے، پھر اسے لے کر نکل جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 13595)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 34 (408 و 409)، 35 (410 و 411)، صحیح مسلم/المساجد 13 (548)، سنن النسائی/المساجد 32 (726)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 10 (724)، مسند احمد (2/260، 324، 471، 532)، سنن الدارمی/الصلاة 116 (1438) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (مؤلف کی سند میں ”ابن أبی حدرد“ لین الحدیث ہیں جن کی متابعت ”حمید بن عبدالرحمن“ نے کی ہے اس لئے یہ حدیث حسن صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 478 سنن ابو داؤد
هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، مَنْصُورٍ ، رِبْعِيٍّ ، طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ الرَّجُلُ إِلَى الصَّلَاةِ، أَوْ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلَا يَبْزُقْ أَمَامَهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ تِلْقَاءِ يَسَارِهِ إِنْ كَانَ فَارِغًا أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ لِيَقُلْ بِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی نماز کے لیے کھڑا ہو یا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے آگے اور داہنی طرف نہ تھوکے لیکن (اگر تھوکنا ہو اور جگہ خالی ہو) تو بائیں طرف تھوکے یا بائیں قدم کے نیچے تھوکے پھر اسے مل دے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الجمعة 49 (571)، سنن النسائی/المساجد 33 (727)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 61 (1021)، (تحفة الأشراف: 4987)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/396) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 479 سنن ابو داؤد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمًا إِذْ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَتَغَيَّظَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ حَكَّهَا، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: فَدَعَا بِزَعْفَرَانٍ فَلَطَّخَهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ إِذَا صَلَّى، فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، وَمَالِكٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، نَحْوَ حَمَّادٍ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرُوا الزَّعْفَرَانَ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَأَثْبَتَ الزَّعْفَرَانَ فِيهِ، وَذَكَرَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ الْخَلُوقَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران اچانک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو آپ لوگوں پر ناراض ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھرچ کر صاف کیا۔ راوی کہتے ہیں: میرے خیال میں ابن عمر نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زعفران منگا کر اس میں رگڑ دیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے ۱؎، لہٰذا وہ اپنے سامنے نہ تھوکے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسماعیل اور عبدالوارث نے یہ حدیث ایوب سے اور انہوں نے نافع سے روایت کی ہے اور مالک، عبیداللہ اور موسیٰ بن عقبہ نے (براہ راست) نافع سے حماد کی طرح روایت کی ہے مگر ان لوگوں نے زعفران کا ذکر نہیں کیا ہے، اور معمر نے اسے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں زعفران کا لفظ موجود ہے، اور یحییٰ بن سلیم نے عبیداللہ کے واسطہ سے اور انہوں نے نافع کے واسطہ سے (زعفران کے بجائے) «خلوق» (ایک قسم کی خوشبو) کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 33 (406)، والأذان 94 (753)، والعمل في الصلاة 2 (1213)، والأدب 75 (6111)، صحیح مسلم/المساجد 13 (547)، (تحفة الأشراف: 7518)وقد أخرجہ: سنن النسائی/المساجد 30 (724)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 10 (724)، موطا امام مالک/القبلہ 3 (4)، مسند احمد (2/32، 66، 83، 96) سنن الدارمی/الصلاة 116 (1437) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی اللہ تعالی کی رحمت مصلی کے سامنے ہوتی ہے کیونکہ دوسری روایت میں ہے «فإن الرحمة تواجهه» ۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (1213) صحيح مسلم (547)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 480 سنن ابو داؤد
يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ الْعَرَاجِينَ، وَلَا يَزَالُ فِي يَدِهِ مِنْهَا فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا، فَقَالَ:" أَيَسُرُّ أَحَدَكُمْ أَنْ يُبْصَقَ فِي وَجْهِهِ، إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَا يَتْفُلْ عَنْ يَمِينِهِ وَلَا فِي قِبْلَتِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ فَإِنْ عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ فَلْيَقُلْ هَكَذَا، وَوَصَفَ لَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ذَلِكَ: أَنْ يَتْفُلَ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ يَرُدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھجور کی شاخوں کو پسند کرتے تھے اور ہمیشہ آپ کے ہاتھ میں ایک شاخ رہتی تھی، (ایک روز) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو قبلہ کی دیوار میں بلغم لگا ہوا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھرچا پھر غصے کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں سے کسی کو اپنے منہ پر تھوکنا اچھا لگتا ہے؟ جب تم میں سے کوئی شخص قبلے کی طرف منہ کرتا ہے تو وہ اپنے رب عزوجل کی طرف منہ کرتا ہے اور فرشتے اس کی داہنی طرف ہوتے ہیں، لہٰذا کوئی شخص نہ اپنے داہنی طرف تھوکے اور نہ ہی قبلہ کی طرف، اگر تھوکنے کی حاجت ہو تو اپنے بائیں جانب یا اپنے پیر کے نیچے تھوکے، اگر اسے جلدی ہو تو اس طرح کرے۔ ابن عجلان نے اسے ہم سے یوں بیان کیا کہ وہ اپنے کپڑے میں تھوک کر اس کو مل لے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 480]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4275)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 34 (408، 409)، 35 (410، 411)، 36 (413)، صحیح مسلم/المساجد 13 (550)، سنن النسائی/المساجد 32 (726)، سنن ابن ماجہ/المساجد 10 (761)، مسند احمد (3/6، 24، 58، 88، 93) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
ابن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (3/9، 24) وغيره وللحديث طرق
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 481 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ الْجُذَامِيِّ ، صَالِحِ بْنِ خَيْوَانَ ، أَبِي سَهْلَةَ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ الْجُذَامِيِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَيْوَانَ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ، قَالَ أَحْمَدُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ: لَا يُصَلِّي لَكُمْ، فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يُصَلِّيَ لَهُمْ فَمَنَعُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَحَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّكَ آذَيْتَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سہلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (احمد کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں) کہ ایک شخص نے کچھ لوگوں کی امامت کی تو قبلہ کی جانب تھوک دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دیکھ رہے تھے، جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص اب تمہاری امامت نہ کرے، اس کے بعد اس نے نماز پڑھانی چاہی تو لوگوں نے اسے امامت سے روک دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، (میں نے منع کیا ہے)، صحابی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: تم نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3789)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/56) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (747)
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 482 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي الْعَلَاءِ ، مُطَرِّفٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَبَزَقَ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن شخیر بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 13 (554)، (تحفة الأشراف: 5348)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/المساجد 34 (728)، مسند احمد (4/25، 26) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (554)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 483 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، بِمَعْنَاهُ، زَادَ: ثُمَّ دَلَكَهُ بِنَعْلِهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے ابوالعلاء یزید بن عبداللہ بن الشخیر نے اپنے والد عبداللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ سے اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے، اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اپنے جوتے سے مل دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 483]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5348) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (554)
الحكم: صحيح