بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بچے کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کرے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: طہارت کے مسائل باب: بچے کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کرے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 374 سنن ابو داؤد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ،" أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ اپنے ایک چھوٹے اور شیر خوار بچے کو لے کر جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، اور اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر چھینٹا ما ر لیا اور اسے دھویا نہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 374]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 59 (223)، والطب 10 (5693)، صحیح مسلم/الطھارة 31 (287)، سنن الترمذی/الطھارة 54 (71)، سنن النسائی/الطھارة 189 (303)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 77 (524)، (تحفة الأشراف: 18342)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة 30(110)، مسند احمد (6/355، 356)، سنن الدارمی/الطھارة 62 (767) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (223) صحيح مسلم (287)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 375 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، وَالرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو توبة ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكٍ ، قَابُوسَ ، لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، وَالرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو توبة المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ: كَانَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: الْبَسْ ثَوْبًا وَأَعْطِنِي إِزَارَكَ حَتَّى أَغْسِلَهُ، قَالَ:" إِنَّمَا يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْأُنْثَى، وَيُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود میں تھے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پیشاب کر دیا تو میں نے عرض کیا کہ آپ کوئی دوسرا کپڑ ا پہن لیجئے اور اپنا تہہ بند مجھے دے دیجئیے تاکہ میں اسے دھو دوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: صرف لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 375]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الطھارة 77 (522)، (تحفة الأشراف: 18055)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/339) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (501)
قابوس ھو ابن المخارق بن سليم، روي عن أبيه عن لبابة به (المعجم الكبير للطبراني 25/25 ح 38 وسنده حسن)
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 376 سنن ابو داؤد
مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ ، مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ ، أَبُو السَّمْحِ
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ، قَالَ: كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ قَالَ: وَلِّنِي قَفَاكَ، فَأُوَلِّيهِ قَفَايَ فَأَسْتُرُهُ بِهِ، فَأُتِيَ بِحَسَنٍ، أَوْ حُسَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ، فَجِئْتُ أَغْسِلُهُ، فَقَالَ:" يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ، وَيُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ"، قَالَ عَبَّاسٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ أَبُو الزَّعْرَاءِ، قَالَ هَارُونُ بْنُ تَمِيمٍ عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: الْأَبْوَالُ كُلُّهَا سَوَاءٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، جب آپ غسل کرنا چاہتے تو مجھ سے فرماتے: تم اپنی پیٹھ میری جانب کر لو، چنانچہ میں چہرہ پھیر کر اپنی پیٹھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب کر کے آپ پر آڑ کئے رہتا، (ایک مرتبہ) حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو آپ کی خدمت میں لایا گیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا، میں اسے دھونے کے لیے بڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے۔ حسن بصری کہتے ہیں: (بچوں اور بچیوں کے) پیشاب سب برابر ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الطھارة 190 (305)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 77 (526)، 113(613)(تحفة الأشراف: 12051) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ہو سکتا ہے کہ حسن بصری کو اس بارے میں مرفوع حدیث نہ پہنچی ہو۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (502)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 377 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَلِيٍّ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ، وَيُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ مَا لَمْ يَطْعَمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ لڑکی کا پیشاب دھویا جائے گا، اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا جب تک وہ کھانا نہ کھانے لگے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 377]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 313 (610)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 77 (525)، (تحفة الأشراف: 10131)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/97)، (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (610)،ابن ماجه (525)
قتادة عنعن (تقدم: 29) وقول قتادة: ’’ھذا ما لم يطعما الطعام فإذا طعما غسلا جميعًا‘‘ صحيح عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
الحكم: صحيح موقوف
حدیث نمبر: 378 سنن ابو داؤد
ابْنُ الْمُثَنَّى ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا لَمْ يَطْعَمْ زَادَ، قَالَ قَتَادَةُ: هَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا الطَّعَامَ، فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَا جَمِيعًا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے علی رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کی ہے، پھر ہشام نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور اس میں انہوں نے «ما لم يطعم» (جب تک کھانا نہ کھائے) کا ذکر نہیں کیا، اس میں انہوں نے اضافہ کیا ہے کہ قتادہ نے کہا: یہ حکم اس وقت کا ہے جب وہ دونوں کھانا نہ کھاتے ہوں، اور جب کھانا کھانے لگیں تو دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 10131) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (610)،ابن ماجه (525)
قتادة عنعن (تقدم: 29) وقول قتادة: ’’ھذا ما لم يطعما الطعام فإذا طعما غسلا جميعًا‘‘ صحيح عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 379 سنن ابو داؤد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، أُمِّهِ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا أَبْصَرَتْ أُمَّ سَلَمَةَ تَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ مَا لَمْ يَطْعَمْ، فَإِذَا طَعِمَ غَسَلَتْهُ، وَكَانَتْ تَغْسِلُ بَوْلَ الْجَارِيَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حسن (حسن بصری) اپنی والدہ (خیرہ جو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی تھیں) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ لڑکے کے پیشاب پر پانی بہا دیتی تھیں جب تک وہ کھانا نہ کھاتا اور جب کھانا کھانے لگتا تو اسے دھوتیں، اور لڑکی کے پیشاب کو (دونوں صورتوں میں) دھوتی تھیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 18256) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
الحسن البصري مدلس وعنعن (تقدم: 17)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 27
الحكم: صحيح