مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةَ ، ذَرٍّ ، ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، أَبِيهِ ، عَمَّار
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّار، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ، وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، شَكَّ سَلَمَةُ، وَقَالَ: لَا أَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ يَعْنِي أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن ابزی سے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے`: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں بس اتنا کر لینا کافی تھا“، اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، پھر اس میں پھونک مار کر اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھیر لیا، سلمہ کو شک ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ اس میں «إلى المرفقين» ہے یا «إلى الكفين.» (یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہنیوں تک پھیرا، یا پہونچوں تک)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 324]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 3138، 10362) (صحیح)» (شک والا جملہ صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 326)
قال الشيخ الألباني
صحيح دون الشك والمحفوظ وكفيه
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (338) صحيح مسلم (368)
الحكم: صحيح دون الشك والمحفوظ وكفيه